உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ٹی-20 عالمی کپ: بابر اعظم کے والد جیت کے بعد نہیں روک پائے آنسو، ویڈیو وائرل

    ٹی-20 عالمی کپ: بابر اعظم کے والد جیت کے بعد نہیں روک پائے آنسو، ویڈیو وائرل

    ٹی-20 عالمی کپ: بابر اعظم کے والد جیت کے بعد نہیں روک پائے آنسو، ویڈیو وائرل

    پاکستانی بلے بازوں نے شروع سے ہی ہندوستانی گیند بازوں پر دباو بنایا۔ وراٹ کوہلی کی کپتانی میں وہ جارحانہ نظر نہیں آئے جس کے لئے وہ جانے جاتے ہیں۔

    • Share this:
      دبئی: ٹیم انڈیا کے خلاف جیت کے بعد پورا پاکستان اس وقت جشن میں ڈوبا ہے۔ ہر طرف کپتان بابر اعظم (Babar Azam) کی تعریف ہو رہی ہے۔ انہوں نے وہ کارنامہ کر دکھایا جو عمران خان جیسے بڑے کپتان بھی نہیں کرسکے۔ نہ صرف کپتانی بلکہ بلے بازی کے محاذ پر بھی بابر اعظم نے کمال کر دیا۔ انہوں نے محمد رضوان کے ساتھ سنچری شراکت کی۔ ساتھ ہی انہوں نے 68 رنوں کی ناٹ آوٹ اننگ کھیلی۔ اس درمیان ان کے والد کا ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے، جہاں ان کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں۔

      دبئی میں اس میچ کو دیکھنے کے لئے بابر اعظم کے والد بھی پہنچے تھے۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ اسٹیڈیم میں بیٹھے ہیں اور چاروں طرف پاکستانی مداحوں نے انہیں گھیر رکھا ہے۔ ناظرین کا پورا ہجوم انہیں مبارکباد دے رہا ہے۔ والد کے ساتھ بابر اعظم کے چھوٹے بھائی بھی موجود تھے۔

       



      ٹیم انڈیا کی زبردست شکست

      واضح رہے کہ ہندوستان کو آئی سی سی ٹی-20 عالمی کپ کے سپر-12 کے پہلے میچ میں اتوار کو یہاں پاکستان سے 10 وکٹ سے زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ہندوستان نے عالمی کپ (ونڈے اور ٹی-20) میں 1992 کے بعد اس میچ سے قبل تک سبھی 12 میچوں (ونڈے میں سات اور ٹی-20 میں پانچ) میں جیت درج کی تھی۔

      کمال کی بلے بازی

      شاہین شاہ آفریدی (31 رن دے کر پانچ وکٹ) کی قیادت میں پاکستانی گیند بازوں کے سامنے ٹیم انڈیا کے بلے باز نہیں چلے اور بعد میں باقی کسر کپتان بابر اعظم (52 گیندوں پر ناٹ آوٹ 68 رن، 6 چوکے اور دو چھکے) اور محمد رضوان (55 گیندوں پر ناٹ آوٹ 79 رن، 6 چوکے اور تین چھکے) کی پہلے وکٹ کے لئے ناقابل تسخیر شراکت داری نے پوری کردی۔

      ہندوستان کی خراب شروعات

      ہندوستان نے صرف 31 رن کے اسکور پر تین وکٹ گنوا دیئے تھے۔ وراٹ کوہلی (49 گیندوں پر 57 رن، پانچ چوکے، ایک چھکا) نے رشبھ پنت (30 گیندوں پر 39 رن، دو چوکے اور دو چھکے) کے ساتھ چوتھے وکٹ کے لئے 40 گیندوں پر 53 رن کی شراکت کی، جس سے ہندوستان باعزت اسکور تک پہنچ پایا۔ اس کے الٹ پاکستانی بلے بازوں نے شروع سے ہی ہندوستانی گیند بازوں پر دباو بنایا۔ وراٹ کوہلی کے گیند بازوں سے لے کر فیلڈنگ کی سجاوٹ میں وہ جارحیت نظر نہیں آئی، جس کے سبب انہیں دنیا کے کامیاب کپتانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: