உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایشیا کپ 2022 تو پھسل گیا، اب T20 World Cup جیتنا ہے تو ہندوستان کو کرنے ہوں گے یہ سدھار

    روہت شرما اور کوچ راہل دراوڑ کے بار بار استعمال کا فیصلہ کہیں ٹی20 عالمی کپ میں بھاری نہ پڑجائے۔(AP)

    روہت شرما اور کوچ راہل دراوڑ کے بار بار استعمال کا فیصلہ کہیں ٹی20 عالمی کپ میں بھاری نہ پڑجائے۔(AP)

    Asia cup 2022: ہندوستان اب ایشیا کپ کے فائنل کے دوڑ سے تقریباً باہر ہوچکا ہے۔ ایشیا کپ کے شروع ہونے سے پہلے ہندوستان کو خطاب کا مضبوط دعویدار مانا جا رہا تھا۔ اس کے بعد پاکستان کی ٹیم ہی خطاب کے آس پاس نظر آرہی تھی۔ لیکن، سپر-4  راونڈ کے ابتدائی تین میچ کے بعد ہی سارے حالات بدل گئے ہیں۔ دفاعی چمپئن ہندوستان کے ہاتھ سے تقریباً ایشیا کپ پھسل گیا ہے اور پاکستان کے ساتھ اب سری لنکا بھی خطاب کے دعویدار کے طور پر ابھرا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی: دفاعی چمپئن ہندوستان کا اس بار ایشیا کپ جیتنے کا خواب اب پورا ہو، ایسا ہوتا ہوا نہیں نظر آرہا ہے۔ پاکستان کے خلاف سپر-4 کا مقابلہ ہارنے کے بعد ہندوستان سری لنکا سے بھی ہار گیا۔ اس کے ساتھ اس کے فائنل میں پہنچنے کی امید تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ گزشتہ سال ٹی20 عالمی کپ کے بعد روہت شرما کپتان تو راہل دراوڑ ہندوستانی ٹیم کے کوچ بنے۔ ان دونوں کے ذمہ داری سنبھالنے کے بعد سے ہی ہندوستانی کرکٹ ٹیم میں مسلسل تبدیلی ہو رہی ہے۔ خاص طور پر ٹیم انڈیا، ٹی20 کرکٹ الگ انداز میں کھیل رہی ہے، کیونکہ اس سال اکتوبر-نومبر میں ٹی20 عالمی کپ ہونا ہے اور ہندوستان گزشتہ سال کی ناکامی کو بھلاکر اس بار ٹورنا منٹ میں اچھی کارکردگی پیش کرنا چاہتا ہے، لیکن ایسے کرنے کے چکر میں کچھ ایسے فیصلے لئے گئے، جو اب ٹیم پر بھاری پڑتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ کم از کم ایشیا کپ میں تو یہ نظر آرہا ہے۔

      ایشیا کپ کے شروع ہونے سے پہلے ہندوستان کو خطاب کا مضبوط دعویدار مانا جا رہا تھا۔ اس کے بعد پاکستان کی ٹیم ہی خطاب کے آس پاس نظر آرہی تھی۔ لیکن، سپر-4  راونڈ کے ابتدائی تین میچ کے بعد ہی سارے حالات بدل گئے ہیں۔ دفاعی چمپئن ہندوستان کے ہاتھ سے تقریباً ایشیا کپ پھسل گیا ہے اور پاکستان کے ساتھ اب سری لنکا بھی خطاب کے دعویدار کے طور پر ابھرا ہے۔

       روہت شرما اور کوچ راہل دراوڑ باربار استعمال کرنے کی بات بھلے ہی کہہ رہے ہوں، لیکن پاکستان اور سری لنکا کے خلاف ایشیا کپ کی مسلسل دو ہار ہندوستانی ٹیم کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔

      روہت شرما اور کوچ راہل دراوڑ باربار استعمال کرنے کی بات بھلے ہی کہہ رہے ہوں، لیکن پاکستان اور سری لنکا کے خلاف ایشیا کپ کی مسلسل دو ہار ہندوستانی ٹیم کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔


      روہت شرما اور کوچ راہل دراوڑ باربار استعمال کرنے کی بات بھلے ہی کہہ رہے ہوں، لیکن پاکستان اور سری لنکا کے خلاف ایشیا کپ کی مسلسل دو ہار ہندوستانی ٹیم کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر اب بھی نہیں سنبھلے اور ضرورت سے زیادہ استعمال کئے تو پھر ہندوستان کا حال گزشتہ ٹی20 عالمی کپ جیسا ہوتے دیر نہیں لگے گی۔ ہندوستانی ٹیم کو اگر آسٹریلیا میں ہونے والا ٹی20 عالمی کپ جیتنا ہے تو فوراً تین چیزوں میں سدھار کرنا ہوگا۔ آئیے ایک ایک کرکے ان کو سمجھتے ہیں۔

      ٹی20 عالمی کپ قریب ٹاپ آرڈر

      ٹی20 عالمی کپ شروع ہونے میں اب 40 دن کا ہی وقت باقی بچا ہے۔ ایشیا کپ کے بعد ہندوستان کو آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ سے گھریلو سیریز کھیلنی ہے۔ آسٹریلیا سے جہاں ہندوستان تین ٹی20 میچ کھیلے گا، تو وہیں جنوبی افریقہ سے تین ٹی20 کے علاوہ اتنے ہی ونڈے کی بھی سیریز ہوگی۔ اس سیریز کا آخری میچ 11 اکتوبر کو ختم ہوگا اور اس کے فوراً بعد ہندوستانی ٹیم ٹی20 عالمی کپ کے لئے آسٹریلیا کے لئے پرواز کرے گی۔ یعنی ایشیا کپ کو چھوڑ دیں تو ہندوستانی ٹیم ٹی20 عالمی کپ سے پہلے 6 ٹی20 کھیلے گی۔ ایسے میں اب ہندوستانی ٹیم کو استعمال سے بچنا ہوگا اور اپنا پلیئنگ الیون سیٹل کرنا ہوگا۔ اس میں بھی ٹاپ آرڈر طے کرنا سب سے ضروری ہے۔

      ایشیا کپ کے بعد ہندوستان کو آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ سے گھریلو سیریز کھیلنی ہے۔
      ایشیا کپ کے بعد ہندوستان کو آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ سے گھریلو سیریز کھیلنی ہے۔


      کوہلی-راہل کا اسٹرائیک ریٹ کمزور

      گزشتہ ٹی20 عالمی کپ میں ہندوستان کی ہار کی وجہ ٹاپ آرڈر ہی رہی تھی۔ حالانکہ ایشیا کپ میں بھی ہندوستان اسی ٹاپ آرڈر کے ساتھ اترا۔ سبھی مقابلوں میں کے ایل راہل نے روہت شرما کے ساتھ اوپننگ کی اور وراٹ کوہلی نمبر-3 پر اترے۔ لیکن کارکردگی کے لحاظ سے دیکھیں تو کے ایل راہل کھرے نہیں اترے۔ انہوں نے جب سے کم بیک کیا ہے، وہ رن بنانے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے 4 میچوں میں 104 کے اسٹرائیک ریٹ سے 70 رن بنائے۔ یہ ٹی20 کے لحاظ سے اچھا نہیں مانا جائے گا۔ وہ بھی تب، جب ہندوستانی اٹیکنگ کرکٹ کی سوچ کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ وراٹ کوہلی ضرور لے میں لوٹتے ہوئے نظر آئے ہیں۔ لیکن ان کا اسٹرائیک ریٹ بھی 122  کا رہا، جو ٹی20 میں ٹاپ آرڈر بلے باز کے لحاظ سے بہتر نہیں مانا جائے گا۔

      وراٹ کوہلی کی کارکردگی بھی بہت تسلی بخش نہیں ہے۔
      وراٹ کوہلی کی کارکردگی بھی بہت تسلی بخش نہیں ہے۔


      روہت شرما اٹیکنگ کرکٹ تو کھیل رہے ہیں۔ اچھی شروعات بھی دلا رہے ہیں، لیکن اسے بڑی اننگ میں تبدیل نہیں کرپا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے مڈل آرڈر پر دباو آرہا ہے۔ ایسے میں ہندوستانی ٹیم کو ٹاپ آرڈر کی پریشانی کو دور کرنا ہوگا۔

      سوریہ کمار کو اوپننگ میں آزمایا جاسکتا ہے

      گزشتہ کچھ ماہ میں استعمال کے تحت اوپننگ میں کئی کھلاڑیوں کو آزمایا گیا ہے۔ رشبھ پنت، سوریہ کمار یادو اور دیپک ہڈا نے اننگ کی شروعات کی۔ اس میں سوریہ کمار اثردار ثابت ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر کے ایل راہل رن بنانے میں جدوجہد کر رہے ہیں تو سوریہ کمار یادو کو ٹاپ آرڈر میں پرکھا جاسکتا ہے۔ وہ اس فارمیٹ کے معقول بلے باز ہیں۔ وہ میدان کے ہر کونے پر شاٹس کھیل سکتے ہیں۔ ان کے ٹاپ آرڈر میں آنے سے روہت شرما پر دباو کم ہوسکتا ہے اور وہ اننگ کو سنبھالنے کا کردار نبھا سکتے ہیں۔ حالانکہ ہندوستانی ٹیم منیجمنٹ کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے، اگر سوریہ کمار کو اوپننگ میں آزمانا ہے تو انہیں پھر آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے خلاف سبھی 6 ٹی20 میں یہ ذمہ داری دینی ہوگی۔ تاکہ وہ خود کو اس رول میں ڈھال سکیں۔

      کون ہوگا وکٹ کیپر؟

      ٹی20 عالمی کپ سر پر ہے اور اب تک یہ طے نہیں ہوپایا ہے کہ وکٹ کیپر کون ہوگا؟ یہ ذمہ داری رشبھ پنت نبھائیں گے یا ٹیم تجربہ کار دنیش کارتک کے ساتھ جائے گی۔ اسے لے کر بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ کارتک صرف وکٹ کیپر نہیں ہیں، بلکہ ٹیم انہیں میچ فنیشر کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے جب سے کم بیک کیا ہے، تب سے کئی اہم اننگیں کھیلی ہیں، لیکن ایشیا کپ میں انہیں دو میچ کھیلنے کو ملے۔ پاکستان اور سری لنکا کے خلاف سپر-4 مقابلے میں وہ پلیئنگ الیون کا حصہ نہیں رہے۔ ان کے مقام پر رشبھ پنت کھیلے، لیکن وہ بھی بلے سے کچھ خاص نہیں کرپائے۔ ہندوستان نے ہانگ کانگ کے خلاف مقابلے میں دنیش کارتک اور رشبھ پنت دونوں کو کھلایا، لیکن ہندوستانی ٹیم منیجمنٹ کی یہ سوچ سمجھ سے پرے رہی، کیونکہ دنیش کارتک کی اس میچ میں بلے بازی ہی نہیں آئی اور وہ وکٹ کیپنگ کی جگہ آوٹ فیلڈ میں دوڑ لگا رہے تھے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: