உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کوارٹر فائنل میں ‘Mumtaz Khan افریقہ میں بہا رہی تھی پسینہ، ماں چلا رہی تھی سزی کا ٹھیلہ اور والد سجدے میں پڑے مسجد میں ملک کی فتح کر رہے تھے دعا

     ساؤتھ افریقہ میں ہورہے وومین جونیئر ہاکی ورلڈ کپ Women Junior hockey World Cup میں غریب ماں باپ کی بیٹی اپنے ملک کا وقار بلند کررہی ہے۔

    ساؤتھ افریقہ میں ہورہے وومین جونیئر ہاکی ورلڈ کپ Women Junior hockey World Cup میں غریب ماں باپ کی بیٹی اپنے ملک کا وقار بلند کررہی ہے۔

    Women Junior hockey World Cup: جب ممتاز کوارٹر فائنل میں اپنے ملک کو جتانے کے لیے افریقہ میں پسینہ بہا رہی تھی تو ماں سبزی کا ٹھیلہ چلا رہی تھی اور باپ مسجد میں اپنی بیٹی اور اپنے ملک کی فتح کے لئے سجدہ کررہا تھا یہ ہے ہندوستان کی خوبصورت تصویر ۔

    • Share this:
    لکھنؤ: کینٹ کے توپ خانہ محلے کی تنگ گلیوں میں سبزی بیچنے والے محمد حفیظ اور قیصر جہاں کی بیٹی ممتاز نے ایک بار پھر اپنی غیر معمولی صلاحیتوں سے پورے ملک کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیا ہے۔ قدرت کا کرشمہ ہے کہ ایک طرف تو ممتاز کی والدہ قیصر جہاں اپنی لڑکیوں کی کفالت کے لئے توپ خانے میں سبزی کا ٹھیلہ کھینچ رہی ہے دوسری جانب ہزاروں میل کے فاصلے پر ساؤتھ افریقہ میں ہورہے وومین جونیئر ہاکی ورلڈ کپ Women Junior hockey World Cup میں غریب ماں باپ کی بیٹی اپنے ملک کا وقار بلند کررہی ہے۔ ممتاز نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف ملیشیا کے خلاف ہیٹرک لگائی تھی بلکہ کوارٹر فائنل میں اپنے بہترین گول کے ذریعے ساؤتھ کوریا کے خلاف کامیابی حاصل کرکے ٹیم کو سیمی فائنل میں پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس سے قبل بھی ۲۰۱۶۔۲۰۱۷ اور ۲۰۱۸ میں بین الاقوامی سطح پر ممتاز ہاکی کے میدان میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر چکی ہیں۔

    ممتاز کا تعلق لکھنؤ کے ایک نہایت غریب گھرانے سے ہے ماں باپ سبزی بیچ کر کسی طرح اپنی چھ بیٹیوں کی کفالت اور تعلیم و تربیت کے راستے ہموار کرتے ہیں ایسے گھرانے اور غربت زدہ ماحول سے ممتاز کا آگے بڑھنا کسی کرشمے اور معجزے سے کم نہیں لیکن لعل گدڑیوں میں ہی پیدا ہوتے ہیں ممتاز چھ بہنوں میں چوتھے نمبر پر ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں: Women Junior hockey World Cup: ماں لگاتی ہے سبزی کا ٹھیلا، بیٹی ممتاز خان جونیئر ہاکی ورلڈ کپ میں کر رہی کمال


    ممتاز کی بڑی بہن فرح کہتی ہیں کہ جب ممتاز ہاکی کھیلنے جاتی تھی تو غیر ہی نہیں اپنے رشتے دار بھی طنز کرتے تھے مذاق اڑاتے تھے لیکن خدا کے رحم ، صبر اور لگن نے منظر پوری طرح تبدیل کردیا آج وہی لوگ تعریف کرتے ہیں ۔ایک دہائی قبل ممتاز کے والد نے رکشہ بھی چلایا اور لوگوں کی کڑوی باتیں بھی سنیں لیکن ہمت اور حوصلہ نہ چھوڑا۔ آج جب لوگ ان کی بیٹی کو دیش کا ابھیمان کہتے ہیں تو ان کی آنکھیں خوشی سے بھیگ جاتی ہیں، وہ اپنی بچیوں سے بہت محبت کرتے ہیں جب ممتاز کوارٹر فائنل میں اپنے ملک کو جتانے کے لیے افریقہ میں پسینہ بہا رہی تھی تو ماں سبزی ک ٹھیلہ چلا رہی تھی اور باپ مسجد میں اپنی بیٹی اور اپنے ملک کی فتح کے لئے سجدہ کررہا تھا یہ ہے ہندوستان کی خوبصورت تصویر ۔



     

    بچپن سے ہی ہاکی کی دل دادہ رہی اس بچی کے ذوق و شوق اور لگن کو دیکھ کر تقریباً تین سو روپئے یومیہ کمانے والے والدین نے ممتاز کا داخلہ لکھنؤکے اسپورٹ کالج کے ڈی سنگھ بابو اسٹیڈیم میں کرادیا تھا اور پھر ممتاز کی محنت ولگن نے مسلسل ایسے مظاہرے کئے کہ ماں باپ اور بہنوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو بھر گئے۔ آج ماں قیصر جہاں فخر سے کہتی ہے کہ میری بیٹی سو بیٹوں کے برابر ہے ، وہ صرف باپ کے سر کا تاج نہیں پورے نکھلئو اور پورے ملک کا وقار ہے ۔ قیصر جہاں کے مطابق لوگوں نے کیا کیا نہیں کہا، کیسے کیسے طعنے دیے لیکن آج قدرت نے سب کی زبان بند کردی ہے۔

    Women's World Cup-2022: ایک ہاتھ سے لیا ایسا کیچ، ویڈیو دیکھ کر ایشت گارڈنر کو کریں گے سلام

    Published by:Sana Naeem
    First published: