உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ٹم پین نے آسٹریلیا کی کپتانی اچانک چھوڑی، ساتھی خاتون کو بھیجے فحش پیغام، جانچ جاری

    آسٹریلیائی کپتان ٹم پین نے اچانک چھوڑ دی کپتانی

    آسٹریلیائی کپتان ٹم پین نے اچانک چھوڑ دی کپتانی

    Tim Paine Quits: Tim Paine Quits: آسٹریلیا کے ٹسٹ کپتان ٹم پین (Tim Paine) نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ٹم پین پر خاتون ساتھی کو فحش پیغام بھیجنے کا الزام لگا ہے۔ ٹم پین کو سال 2018 میں اسٹیو اسمتھ (Steve Smith) کی جگہ 46 واں آسٹریلیائی کپتان نامزد کیا گیا تھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ٹم پین (Tim Paine) نے آسٹریلیائی ٹسٹ ٹیم کی کپتانی چھوڑ دی ہے۔ ٹم پین نے انگلینڈ کے خلاف ایشیز سیریز (Ashes Series) کی شروعات سے پہلے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ٹم پین نے آج ہوبارٹ میں عہدے سے استعفیٰ کا اعلان کیا۔ ٹم پین  سال 2018 میں اسٹیو اسمتھ (Steve Smith) کی جگہ 46 واں آسٹریلیائی کپتان نامزد کیا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، سال 2017 میں ایک خاتون ساتھی کو بھدے پیغام اور ایک نامناسب تصویر بھیجنے کے لئے کرکٹ آسٹریلیا کی گورننگ باڈی کے ذریعہ ٹم پین کی جانچ کی جارہی ہے۔

      مقامی وقت کے مطابق 2:30 بجے پریس کانفرنس میں ٹم پین نے میڈیا کے سامنے اعلان کے ساتھ ایک چھوٹا بیان پڑھا۔ انہوں نے کہا، ’آج میں آسٹریلیائی مرد ٹسٹ ٹیم کے کپتان کے عہدے سے ہٹنے کا اعلان کر رہا ہوں۔ یہ یقینی طور پر مشکل فیصلہ ہے، لیکن میرے، میری فیملی اور کرکٹ کے لئے صحیح ہے‘۔

      ٹم پین سال 2018 میں اسٹیو اسمتھ کی جگہ 46 واں آسٹریلیائی کپتان نامزد کیا گیا تھا۔
      ٹم پین سال 2018 میں اسٹیو اسمتھ کی جگہ 46 واں آسٹریلیائی کپتان نامزد کیا گیا تھا۔


      ٹم پین کی کرکٹ آسٹریلیا کی گورننگ باڈی کر رہی ہے جانچ

      پریس کانفرنس میں جذباتی ہوتے ہوئے ٹم پین نے کہا، ’میرے فیصلے کے پس منظر میں تقریباً چار سال پہلے کا ایک معاملہ ہے۔ میں ایک اس وقت کی معاون کے ساتھ ٹیکسٹ ایکسچینج میں شامل تھا۔ اس وقت، ایکسچینج پوری طرح سے سی اے اینٹیگریٹی یونٹ جانچ کا موضوع تھا، جس میں میں نے پوری طرح سے حصہ لیا اور کھلے طور پر حصہ لیا۔ اس جانچ اور ایک کرکٹ تسمانیہ ایچ آر جانچ نے ایک ہی وقت میں پایا کہ کرکٹ آسٹریلیا کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی تھی۔ حالانکہ میں بری ہوگیا تھا، مجھے اس وقت اس حادثہ پر گہرا افسوس تھا اور آج بھی کرتا ہوں۔ میں نے اس وقت اپنی بیوی اور فیملی سے بات کی۔ میں ان کی معافی اور حمایت کے لئے بہت شکرگزار ہوں۔ ہم نے سوچا کہ یہ حادثہ اب پیچھے چھوٹ چکا ہے اور میں پوری طرح سے ٹیم پر توجہ مرکوز کرسکتا ہوں، جیسا کہ میں نے گزشتہ تین یا چار الوں سے کیا ہے‘۔

      ٹم پین نے کہی دل کو چھولینے والی بات

      ٹم پین نے مزید کہا، ’حالانکہ مجھے حال ہی میں پتہ چلا کہ یہ پرسنل ٹیکسٹ ایکسچینج عوامی ہونے جا رہا ہے۔ غور کرنے پر 2017 میں میرے کام آسٹریلیائی کرکٹ کپتان یا وسیع برادری کے معیارات پر پورا نہیں اترتے۔ مجھے اپنی بیوی، اپنی فیملی اور دوسرے فریق کو پہنچی چوٹ اور درد کے لئے بہت افسوس ہے۔ اس سے ہمارے کھیل کے وقار کو ہوئے کسی بھی نقصان کے لئے مجھے افسوس ہے۔ میرا ماننا ہے کہ کپتان کے طور پر فوری اثر سے میرے لئے یہ صحیح فیصلہ ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ یہ ایک بڑی ایشیز سیریز سے پہلے ٹیم کے لئے ایک ایک ناپسندیدہ خلل بن جائے‘۔

      ٹم پین نے انگلینڈ کے خلاف ایشیز سیریز کی شروعات سے پہلے کپتانی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
      ٹم پین نے انگلینڈ کے خلاف ایشیز سیریز کی شروعات سے پہلے کپتانی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔


      ایشیز سیریز سے پہلے آسٹریلیائی ٹیم بحران کا شکار

      ٹم پین نے کہا، ’میں ان سے معافی مانگتا ہوں۔ آسٹریلیائی کرکٹ مداحوں کے لئے مجھے گہرا افسوس ہے کہ میرے پچھلے برتاو نے ایشیز سے پہلے ہمارے کھیل کو متاثر کیا ہے۔ مداحوں اور پوری کرکٹ برادری کو ہوئی مایوسی کے لئے میں معافی مانگتا ہوں۔ مجھے ایک نایاب، پیار کرنے والی اور معاون فیملی ملی ہے اور یہ جان کر میرا دل ٹوٹ جاتا ہے کہ میں نے انہیں کتنا مایوس کیا ہے۔ وہ ہمیشہ میرے ساتھ کھڑے رہے ہیں، میرے سب سے وفادار مداح رہے ہیں اور میں ان کی حمایت کے لئے ان کا قرض دار ہوں۔ میں آسٹریلیائی کرکٹ ٹیم کے ساتھ پابند رکن بنا رہا ہوں گا‘۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      سوربھ گانگولی کو بڑی ذمہ داری، انل کمبلے کی جگہ بنائے گئے آئی سی سی کرکٹ کمیٹی کے صدر

      اس فیصلے نے آسٹریلیا کی ایشیز سیریز کو پوری طرح سے بحران میں ڈال دیا۔ ٹم پین کے عہدہ چھوڑنے کے ساتھ پیٹ کمنس، جو کئی برسوں سے آسٹریلیا کے نائب کپتان کے طور پر کام کر رہے ہیں، کردار نبھانے کے لئے سب سے آگے ہیں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو پیٹ کمنس ملک کے 47 ویں ٹسٹ کپتان اور 65 سال میں کسی آسٹریلیائی ٹسٹ ٹیم کی قیادت کرنے والے پہلے تیز گیند باز بن جائیں گے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: