உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ٹوکیو اولمپکس: لولینا بورگوہین اولمپک میڈل جیتنے والی تیسری مکے باز بنیں

    ٹوکیو اولمپکس: لولینا بورگوہین اولمپک میڈل جیتنے والی تیسری مکے باز بنیں

    Tokyo Olympics 2020: ہندوستانی خاتون باکسر لولینا بورگوہین (Boxer Lovlina Borgohain) ٹوکیو اولمپکس میں میڈل جیتنے والی تیسری ہندوستانی مکے باز بن گئی ہیں۔ ان سے پہلے وجیندر سنگھ اور ایم سی میری کوم ایسا کرچکی ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ہندوستانی خاتون باکسر لولینا بورگوہین ٹوکیو اولمپکس میں میڈل جیتنے والی تیسری ہندوستانی مکے باز بن گئی ہیں۔ ان سے پہلے وجیندر سنگھ اور ایم سی میری کوم ایسا کرچکی ہیں۔ لیولینا مقابلے کے دوران تھکی ہوئی نظر آرہی تھیں، مگر انہوں نے مقابلہ جاری رکھا۔ لولینا کو سیمی فائنل میں شکست کے بعد برانز میڈل سے ہی اکتفا کرنا پڑے گا۔

      ٹوکیو اولمپک 2020 (2020 Tokyo Olympic) کی باکسنگ رنگ میں ہندوستان کی خاتون مکے باز لولینا بورگوہین (Lovlina Borgohain) اپنے میڈل کے رنگ بدلنے میں ناکام رہیں۔ سیمی فائنل مقابلے میں انہیں عالمی چمپئن ترکی کی مکے باز بساناز نے ہرایا۔ اس شکست کے ساتھ ہی انہیں برانز میڈل کے ساتھ اکتفا کرنا پڑا۔ اولمپک کی تاریخ میں ہندوستان کو میڈل دلانے والی لولینا اوور آل تیسری جبکہ دوسری خاتون باکسر ہیں۔ ان سے پہلے 2008 کے بیجنگ اولمپک میں وجیندر سنگھ نے برانز میڈل جیتا تھا۔ اس کے بعد سال 2012 لندن اولمپک میں میری کوم نے برانز میڈل جیتا تھا۔ لولینا بورگوہین کے لئے کمال کی بات یہ رہی کہ انہوں نے اپنا پہلا اولمپک کھیلتے ہوئے ہی میڈل پر پنچ جڑ دیا۔

      اولمپک کی تاریخ میں ہندوستان کو میڈل دلانے والی لولینا اوور آل تیسری جبکہ دوسری خاتون باکسر ہیں۔
      اولمپک کی تاریخ میں ہندوستان کو میڈل دلانے والی لولینا اوور آل تیسری جبکہ دوسری خاتون باکسر ہیں۔


      ترکی کی مکے باز بساناز شروعات سے ہی مقابلے میں حاوی رہیں۔ لولینا نے اپنا کارڈ کھلا رکھا، جس کا پورا فائدہ عالمی چمپئن باکسر نے سیمی فائنل میں اٹھایا۔ بسا ناز کے پنچ لولینا بورگیہین کے خلاف سیدھے ٹارگیٹ پر جاکر لگے، جس کے پوائنٹ انہیں ملے۔ کہیں زیادہ تجربہ کار اور تیز طرار ترکی کے مکے باز کے مکوں کا ہندوستانی باکسر کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اپنے ویٹ کیٹیگری میں ٹاپ سیڈ رہیں بساناز نے تینوں ہی راونڈ ججوں کے اتفاق رائے سے جیتے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: