உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Tokyo Paralympics 2020: بھاوینا پٹیل نے جیتا سلور میڈل، ٹوکیو اولمپک کی طرح ہی کھلا ہندوستان کا کھاتہ

    Tokyo Paralympics 2020: بھاوینا پٹیل نے جیتا سلور میڈل، ٹوکیو اولمپک کی طرح ہی کھلا ہندوستان کا کھاتہ

    Tokyo Paralympics 2020: بھاوینا پٹیل نے جیتا سلور میڈل، ٹوکیو اولمپک کی طرح ہی کھلا ہندوستان کا کھاتہ

    Tokyo paralympics 2020: ہندوستانی ٹیبل ٹینس کھلاڑی بھاوینا پٹیل (bhavina patel) پٹیل کویمنس سنگل کلاس 4 کے فائنل میں چینی کھلاڑی جھاو ینگ کے ہاتھوں انہیں 11-7, 11- 5, 11-6 شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    • Share this:
      نئ دہلی: ہندوستانی ٹیبل ٹینس کھلاڑی بھاوینا پٹیل (bhavina patel) ٹوکیو پیرالمپک میں گولڈ میڈل جیتنے سے محروم رہ گئی ہیں۔ ویمنس سنگل کلاس 4 کے فائنل میں چینی کھلاڑی جھاو ینگ کے ہاتھوں انہیں 11-7, 11- 5, 11-6 شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ملک کی جھولی میں تاریخی سلور میڈل ڈالا ہے۔ اسی کے ساتھ ٹوکیو پیرا لمپک 2020 (Tokyo Paralympics 2020) میں بھی ٹوکیو اولمپک کی ہی طرح ہندوستان کا کھاتہ سلور میڈل کے ساتھ کھلا۔ ٹوکیو اولمپک میں ویٹ لفٹر میرا بائی چانو نے سلور میڈل جیت کر ہندوستان کا کھاتہ کھولا تھا۔ دنیا کی نمبر ایک چینی کھلاڑی پورے مقابلے میں ہی ہندوستانی کھلاڑی پر حاوی رہیں۔

      سلور جیتنے والی دوسری ہندوستانی خاتون کھلاڑی بنیں

      بھاوینا پٹیل پیرا لمپک کھیلوں کی تاریخ میں ہندوستان کے لئے میڈل جیتنے والی دوسری خاتون کھلاڑی ہیں۔ ان سے پہلے دیپا ملک ان کھیلوں میں میڈل جیت چکی ہیں۔ دیپا ملک نے 2016 میں ریو پیرا لمپک میں گولا پھینک میں 4.61 میٹر کے سب سے بہترین تھرو کے ساتھ سلور میڈل جیتا تھا۔ اس سے پہلے سیمی فائنل میں بھاوینا پٹیل نے دنیا کی تیسرے نمبر کی چینی کھلاڑی کو ہرا کر فائنل میں داخلہ حاصل کیا تھا۔ بھاوینا نے سیمی فائنل مقابلہ 7-11, 11-7, 11-4, 9-11, 11-8  سے جیتا تھا۔



      بچپن میں ہی ہوگیا تھا پولیو

      بھاوینا پٹیل کو 12 ماہ کی عمر میں پولیو ہوگیا تھا۔ پیرا ٹیبل ٹینس میں کل 11 (کیٹیگری) زمرے ہوتے ہیں۔ زمرے 1 سے 5 تک کے ایتھلیٹ وہیل چیئر پر کھیلتے ہیں۔ کلاس 6 سے 10 تک کے ایتھلیٹ کھڑے ہوکر کھیل سکتے ہیں۔ کلاس-11 کے ایتھلیٹوں میں ذہنی پریشانی ہوتی ہے۔ ہندوستان کی بھاوینا پٹیل نے بھی وہیل چیئر کے سہارے پوڈیم تک کا سفر طے کیا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: