உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Tokyo Paralympics: بھاوینا پٹیل گولڈ جیتنے سے ایک قدم دور، فائنل میں پہنچ کر رقم کی تاریخ

    بھاوینا پٹیل گولڈ جیتنے سے ایک قدم دور، فائنل میں پہنچ کر رقم کی تاریخ

    بھاوینا پٹیل گولڈ جیتنے سے ایک قدم دور، فائنل میں پہنچ کر رقم کی تاریخ

    Tokyo Paralympics 2020: ٹوکیو پیرالمپک میں ٹیبل ٹینس خاتون سنگلز کا سیمی فائنل میں بھاوینا بین پٹیل (Bhavinaben Patel) نے چین کی جھینگ میاو کو2-3 سے شکست دی۔ 34 سالہ بھاوینا بین اب گولڈ سے بس ایک قدم دور ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ٹوکیو پیرالمپک (Tokyo Paralympics) میں ٹیبل ٹینس کھلاڑی بھاوینا بین پٹیل (Bhavinaben Patel) نے فائنل میں پہنچ کر تاریخ رقم کردی ہے۔ ٹیبل ٹینس خاتون سنگلز کے سیمی فائنل میں بھاوینا بین پٹیل (Bhavina Patel) نے چین کی جھوینک میاو کو 2-3 سے ہرایا۔ بھاوینا پٹیل نے سیمی فائنل مقابلہ 7-11, 11-7, 11-4, 9-11, 11-8 سے جیتا۔ اب تک کوئی بھی ہندوستانی خاتون اولمپک یا پیرالمپک کھیلوں میں گولڈ میڈل جیتنے کا کارنامہ نہیں انجام دے سکی ہیں۔ بھاوینا کے پاس ہندوستان کی پہلی گولڈن گرل بننے کا موقع ہے۔ سال 2016 میں ریو اولمپک میں پی وی سندھو (PV Sindhu) اور پیرالمپک میں دیپا ملک (Deepa Malik) نے سلور میڈل جیتا تھا۔ حالانکہ دونوں کھلاڑی فائنل مقابلہ ہارگئی تھیں۔

      اس سے پہلے کوارٹر فائنل مقابلے میں بھاوینا پٹیل نے سربیا کی بورسلاوا رینکووچ پیرچ کو مسلسل تین گیم میں 11-5, 11-6, 11-7 سے شکست دی تھی۔ خاتون سنگلز کلاس 4 زمرے میں باوینا بین نے آخری -16 میں برازیل کی جایس ڈی اولیویرا کو شکست دی تھی۔ جایسن نے سال 2016 میں ریو پیرالمپک میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔ انہوں نے یہ مقابلہ صرف 18 منٹ میں جیت لیا۔

      بھاوینا بین کو 12 ماہ کی عمر میں پولیو ہوگیا تھا۔ انہوں نے کوارٹر فائنل مقابلے کے بعد کہا تھا، ’میں ہندوستان کے لوگوں کی حمایت کے سبب اپنا کوارٹر فائنل میچ جیت سکی۔ برائے مہربانی میری حمایت کرتے رہیں تاکہ میں اپنا سیمی فائنل میچ بھی جیت سکوں‘۔



      گجرات کی وڈنگر کی رہنے والی بھاوینا بین پٹیل ایشین گیمس میں میڈل جیت چکی ہیں۔ انہوں نے اب تک 28 بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں حصہ لیا ہے، جس میں ہندوستان کے لئے پانچ گولڈ، 13 سلور اور کانسے کا تمغہ جیتے ہیں۔ انہیں سال 12-2011 میں سردار پٹیل اور ایکلویوا ایوارڈ سے نوازا جاچکا ہے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: