உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Tokyo Paralympics: سمت انتل نے ٹوکیو پیرالمپک میں ورلڈ ریکارڈ کے ساتھ جیتا گولڈ میڈل

    ہریانہ کے سمت انتل (Sumit Antil) نے عالمی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے ٹوکیو پیرالمپک (Tokyo Paralympics) میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ وہ پہلی بار پیرا لمپک کھیلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ سمت انتل نے 68.55 میٹر کا تھروکیا اور عالمی ریکارڈ بنایا۔

    ہریانہ کے سمت انتل (Sumit Antil) نے عالمی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے ٹوکیو پیرالمپک (Tokyo Paralympics) میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ وہ پہلی بار پیرا لمپک کھیلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ سمت انتل نے 68.55 میٹر کا تھروکیا اور عالمی ریکارڈ بنایا۔

    ہریانہ کے سمت انتل (Sumit Antil) نے عالمی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے ٹوکیو پیرالمپک (Tokyo Paralympics) میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ وہ پہلی بار پیرا لمپک کھیلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ سمت انتل نے 68.55 میٹر کا تھروکیا اور عالمی ریکارڈ بنایا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ہندوستانی بھالا پھینک ایتھلیٹ سمت انتل نے کمال کی کارکردگی پیش کرتے ہوئے ٹوکیو پیرالمپک (Tokyo Paralympics) میں گولڈ میڈل جیت کر پیر کے روز تاریخ رقم کی۔ انہوں نے ورلڈ ریکارڈ قائم کرتے ہوئے سونے کا تمغہ اپنے نام کیا۔ پہلی بار ہریانہ کے سمت انتل (Sumit Antil) نے پیرا لمپک کھیلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ سمت انتل نے 68.08 میٹر کا تھروکیا اور عالمی ریکارڈ بنایا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے پانچویں کوشش میں اسے اور بہتر کیا اور 68.55 میٹر کے تھرو بیک کے ساتھ عالمی ریکارڈ قائم کیا۔

      سمت انتل نے اپنی پہلی کوشش میں 66.95 میٹر دور بھالا پھینکا، جو بھی ایک ریکارڈ ہے۔ تیسری کوشش میں 65.27، چوتھی کوشش میں 66.71 اور پانچویں کوشش میں سمت نے 68.55 میٹر کا تھرو کیا۔ آسٹریلیا کے مائیکل برین نے 66.29 میٹر تھرو کی بدولت سلور میڈل جیتا۔ سری لنکا کے دلن کوڈتھووکو نے 65.61 میٹر کے تھرو کے ساتھ برانز میڈل جیتا۔ اسی ایونٹ کے F-44 کلاس میں ہندوستان کے ہی سندیپ چوتھے مقام پر رہے، جنہوں نے سیزن کی اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 62.20 میٹر کا تھرو کیا۔

      تقریباً 6 سال پہلے سڑک حادثے میں اپنا ایک پیر گنوانے والے سمت نے بلند حوصلوں، محنت اور جذبے کی بدولت یہ مقام حاصل کیا ہے۔ ہریانہ کے رہنے والے سمت تین بہنوں کے اکلوتے بھائی ہیں۔ سمت جب 7 سال کے تھے، تب ایئر فورس میں تعینات ان کے والد کی بیماری سے موت ہوگئی تھی۔ سال 2015 میں جب سمت ٹیوشن لے کر اپنے گھر واپس آرہے تھے، تبھی ایک ٹریکٹر - ٹرالی نے ٹکر مار دی۔ اسی حادثے میں سمت کو اپنا ایک پیر گنوانا پڑا تھا اور وہ کئی ماہ تک بستر پر رہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: