உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پیسہ بولتا ہے، ہندستان کا دورہ کوئی رد نہیں کرتا، کرکٹر عثمان خواجہ نے کی پاکستان کی حمایت

    کرکٹر عثمان خواجہ (Usman Khawaja) کا تعلق بھی پاکستان سے ہے۔ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے تھے لیکن جب وہ 5 سال کے تھے تو ان کا خاندان سڈنی میں آباد ہوگیا تھا۔

    کرکٹر عثمان خواجہ (Usman Khawaja) کا تعلق بھی پاکستان سے ہے۔ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے تھے لیکن جب وہ 5 سال کے تھے تو ان کا خاندان سڈنی میں آباد ہوگیا تھا۔

    کرکٹر عثمان خواجہ (Usman Khawaja) کا تعلق بھی پاکستان سے ہے۔ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے تھے لیکن جب وہ 5 سال کے تھے تو ان کا خاندان سڈنی میں آباد ہوگیا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ (NZC) نے سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے آخری موقع پر پاکستان کے خلاف سیریز رد کر دی تھی جس کے بعد کئی کھلاڑیوں نے اس پر مایوسی کا اظہار کیا۔ اب آسٹریلیا کے کرکٹر عثمان خواجہ (Usman Khawaja) نے بھی پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ خواجہ نے کہا ہے کہ سیریز کے لیے پاکستان کو 'نہیں' کہنا آسان ہے کیونکہ بہت ساری چیزیں پیسے پر منحصر ہوتی ہیں۔

      کرکٹر عثمان خواجہ (Usman Khawaja) کا تعلق بھی پاکستان سے ہے۔ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے تھے لیکن جب وہ 5 سال کے تھے تو ان کا خاندان سڈنی میں آباد ہوگیا تھا۔ خواجہ نے برسبین میں کہا ، 'میرے خیال میں کھلاڑیوں اور تنظیموں کے لیے پاکستان کو نہ کہنا بہت آسان ہے ، کیونکہ یہ پاکستان ہے۔ کوئی بھی ہندوستان کو نہ نہیں کہے گا اگر ان کے ساتھ بھی ایسی ہی صورت حال بن جاتی ہے۔

      انہوں نے مزید کہا ، 'ہم سب جانتے ہیں کہ پیسہ بولتا ہے اور شاید یہ اس کا ایک بڑا حصہ ہے۔ وہ اپنے ٹورنامنٹس کے ذریعے بار بار ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ کھیلنے کے لیے ایک محفوظ جگہ ہے۔ میرے خیال میں کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہمیں کیوں نہیں جانا چاہیے۔

      نیوزی لینڈ کے بعد انگلینڈ نے بھی اکتوبر میں ہونے والی سیریز رد کر دی تھی۔ تاہم پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے کہا کہ کھلاڑیوں کی حفاظت کے بارے میں فکر اس فیصلے کا حصہ نہیں تھی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے حالیہ برسوں میں کھلاڑیوں اور قومی بورڈز کو سمجھانے کے لیے آخری حد تک کوش کر رہی ہے کہ ان کی واپسی محفوظ ہے۔ 2009 میں سری لنکا کی ٹیم پر حملے کے بعد پاکستان کو 'نو گو زون' بنا دیا گیا تھا اور متحدہ عرب امارات میں گھریلو سیریز کا انعقاد جاری رکھا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: