உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ویریندرسہواگ کا بڑا انکشاف- دھونی اور ان کی وجہ سے ڈراپ ہونے سے بچے تھے کوہلی

    سہواگ کا انکشاف- دھونی اور ان کی وجہ سے ڈراپ ہونے سے بچے تھے وراٹ کوہلی

    سہواگ کا انکشاف- دھونی اور ان کی وجہ سے ڈراپ ہونے سے بچے تھے وراٹ کوہلی

    ٹی-20 عالمی کپ میں ہندوستانی ٹیم سیمی فائنل میں نہیں پہنچ سکی ہے۔ اس کے بعد سے وراٹ کوہلی کی قیادت پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ اس دوران ہندوستان کے سابق سلامی بلے باز ویریندر سہواگ نے انکشاف کیا کہ سلیکٹرس وراٹ کوہلی کو ڈراپ کرنا چاہتے تھے، لیکن انہوں نے اور دھونی نے ان کی حمایت کی تھی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: وراٹ کوہلی (Virat Kohli) تینوں فارمیٹ کے سب سے بہترین بلے بازوں میں سے ایک ہیں۔ ٹیم انڈیا کے کپتان ہندوستانی بلے بازی کی بنیاد ہیں اور ایک شاندار لیڈر بھی ہیں۔ دائیں ہاتھ کے بلے باز کے پاس سبھی فارمیٹ میں کئی ریکارڈ ہیں اور انہوں نے کپتانی کے محاذ پر بھی کئی حصولیابیاں حاصل کی ہیں۔ جبکہ اب وہ ٹیم انڈیا کے سب سے اچھے بلے باز ہیں، لیکن وراٹ کوہلی نے اپنے ٹسٹ کیریئر کی یادگار شروعات نہیں کی تھی۔ سال 2011 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنی پہلی سیریز میں تین ٹسٹ میچوں میں صرف 76 رن بنانے کے بعد انہیں ٹسٹ ٹیم سے ہٹا دیا گیا تھا اور ٹیم میں واپسی کرنے کے بعد بھی انہوں نے بینچ پر ہی زیادہ وقت گزارا تھا۔

      وراٹ کوہلی نے آخر کار اس سال کے آخر میں گھریلو سیریز کے دوران ویسٹ انڈیز کے خلاف پلیئنگ الیون میں جگہ بنائی تھی۔ انہوں نے آسٹریلیا کا سفر بھی کیا اور دیگر ہندوستانی بلے بازوں کی طرح گھریلو گیند بازوں کے خلاف جدوجہد کیا۔ تیسرے ٹسٹ سے ٹھیک پہلے مڈل آرڈر کا یہ بلے باز ایک بار پھر پلیئنگ الیون میں اپنی جگہ گنوانے کی کگار پر تھا، لیکن اس وقت کے کپتان مہندر سنگھ دھونی (MS Dhoni) اور نائب کپتان ویریندر سہواگ (Virender Sehwag) کی وجہ سے ایسا نہیں ہوا۔ سال 2015 میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے والے ویریندر سہواگ نے 2016 میں ہندوستان - انگلینڈ ٹسٹ سیریز کے دوران کمنٹری میں ایک دلچسپ کہانی شیئر کی۔

      ہندوستان کے سابق سلامی بلے باز ویریندر سہواگ نے انکشاف کیا کہ سلیکٹرس وراٹ کوہلی کو ڈراپ کرنا چاہتے تھے، لیکن انہوں نے اور دھونی نے ان کی حمایت کی تھی۔ سہواگ نے کہا، ’سلیکٹرس 2012 میں پرتھ میں وراٹ کوہلی کے بجائے روہت شرما کو کھلانا چاہتے تھے۔ میں نائب کپتان تھا اور مہندر سنگھ دھونی ٹیم کی قیادت کر رہے تھے اور ہم نے فیصلہ کیا کہ ہمیں کوہلی کی حمایت کرنی ہوگی۔ باقی تاریخ ہے‘۔

       مہندر سنگھ دھونی اور ویریندر سہواگ کی حمایت وراٹ کوہلی کے کیریئر کا سب سے اہم لمحہ نکلا اور اس کے بعد انہیں ایک بار بھی ٹیم سے باہر نہیں کیا گیا ہے۔

      مہندر سنگھ دھونی اور ویریندر سہواگ کی حمایت وراٹ کوہلی کے کیریئر کا سب سے اہم لمحہ نکلا اور اس کے بعد انہیں ایک بار بھی ٹیم سے باہر نہیں کیا گیا ہے۔


      مہندر سنگھ دھونی اور ویریندر سہواگ کی حمایت وراٹ کوہلی کے کیریئر کا سب سے اہم لمحہ نکلا اور اس کے بعد انہیں ایک بار بھی ٹیم سے باہر نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے پرتھ ٹسٹ کی پہلی اننگ میں 44 رن بنائے اور اس کے بعد 75 رنوں کا اسکور بنایا۔ اس میچ کو ہندوستان ایک اننگ 37 رنوں سے ہار گیا۔

      دہلی میں پیدا ہوئے بلے باز وراٹ کوہلی نے چوتھے ٹسٹ میں سنچری بنائی اور ٹسٹ سیریز میں تین پوائنٹ کے اعدادوشمار کو توڑنے والے واحد ہندوستانی بلے باز تھے۔ انہوں نے سہ رخ سیریز میں اپنا فارم جاری رکھا اور 8 ونڈے میچوں میں 373 رن بنائے۔ سہ رخی سیریز میں ان کی شاندار پرفارمنس کے لئے انہیں ایشیا کپ کے لئے نائب کپتان کے طور پر تقرر کیا گیا تھا۔

      مہندر سنگھ دھونی اور ویریندر سہواگ کی حمایت وراٹ کوہلی کے کیریئر کا سب سے اہم لمحہ نکلا اور اس کے بعد انہیں ایک بار بھی ٹیم سے باہر نہیں کیا گیا ہے۔
      مہندر سنگھ دھونی اور ویریندر سہواگ کی حمایت وراٹ کوہلی کے کیریئر کا سب سے اہم لمحہ نکلا اور اس کے بعد انہیں ایک بار بھی ٹیم سے باہر نہیں کیا گیا ہے۔


      اگلی بار وراٹ کوہلی نے ٹسٹ سیریز کے لئے آسٹریلیا کا دورہ کیا۔ تیسرے ٹسٹ کے بعد وہ سب سے لمبے فارمیٹ کے کپتان بن گئے، جب اچانک دھونی نے ٹسٹ کرکٹ سے ریٹائر منٹ لے لیا۔ انہوں نے کامیابی کے ساتھ ٹیم کی قیادت کرنا جاری رکھا اور 38 جیت کے ساتھ کوہلی پہلے سے ہی سب سے کامیاب ہندوستانی کپتان ہیں۔ انہوں نے 96 ٹسٹ میں 7765 رن بنائے ہیں۔ انہوں نے ٹی-20 انٹرنیشنل کپتان کے طور پر عہدہ چھوڑ دیا ہے۔ کوہلی جب تک کھیلیں گے، تب تک ان کے ٹسٹ ٹیم کی قیادت کرنے کا امکان ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: