உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سیمی فائنل میں شکست کے بعد تنقیدوں کا مل گیا جواب ۔ پڑھیں کیا کہتے ہیں ٹیم انڈیا کے کوچ روی شاستری

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    کوچ روی شاستری نے اعتراف کیا ہے کہ ٹیم کو مڈل آرڈر میں ایک مضبوط بلے باز کی کمی کا احساس ہوا۔عالمی کپ میں ہندستان کا مڈل آرڈر جدوجہد کرتا رہا اور سیمی فائنل میں ٹاپ آرڈر کے خاتمے کے بعد سنبھل نہیں پایا

    • Share this:
      ہندوستان کے عالمی کپ کے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ سے ہار کر باہر ہو جانے کے بعد کوچ روی شاستری نے اعتراف کیا ہے کہ ٹیم کو مڈل آرڈر میں ایک مضبوط بلے باز کی کمی کا احساس ہوا ۔عالمی کپ میں ہندستان کا مڈل آرڈر جدوجہد کرتا رہا اور سیمی فائنل میں ٹاپ آرڈر کے خاتمے کے بعد سنبھل نہیں پایا۔ عالمی کپ سے پہلے، ٹورنامنٹ کے دوران اور ٹورنامنٹ کے بعد مڈل آرڈر میں چار نمبر کو لے کر بحث مسلسل جاری ہے۔ اس ترتیب نے ہندوستانی بلے بازی کو کمزور کیا، خاص طور پر سیمی فائنل میں۔ ہندستان نے چار نمبر پر لوکیش راہل، ہردک پانڈیا، وجے شنکر اور رشبھ پنت کو آزمایا لیکن کوئی بھی بلے باز اس ترتیب پر 50 کا اسکور نہیں بنا پایا۔

      شاستری نے ایک انگریزی اخبار سے کہاکہ ہمیں مڈل آرڈر میں ایک مضبوط بلے باز کی ضرورت تھی۔ عالمی کپ کا سفر ختم ہو چکا ہے اور ہمیں مستقبل کی جانب دیکھنا ہوگا۔ اس ترتیب نے ہمیں ہمیشہ پریشان رکھا اور ہم اس کا حل نہیں نکال پائے۔ کوچ نے کہاکہ راہل چار نمبر پر تھے لیکن شکھر دھون کے زخمی ہونے کے بعد انہیں اوپننگ پر جانا پڑا۔ وجے شنکر بھی تھے لیکن وہ بھی زخمی ہو گئے اور ہم حالات کو کنٹرول نہیں کر پائے۔ شنکر کے زخمی ہونے کے بعد اوپنر مینک اگروال کو بلائے جانے پر شاستری نے کہاکہ جب تک مینک ہم سے جڑے اس کے بعد زیادہ وقت نہیں بچا تھا۔

      اگر سیمی فائنل سے پہلے ہمارے پاس ایک آدھ میچ اورہوتا تو ہم یقینی طور پرکوشش کرسکتے تھے کہ مینک کو آزما لیا جائے۔ مہندر سنگھ دھونی کو بلے بازی آرڈر میں ساتویں نمبر پراتارے جانے کے فیصلے پرکوچ نے کہاکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ دھونی جلدی اتریں اور اگر وہ جلدی آؤٹ ہو جاتے تو ہدف کا تعاقب کرنا ناممکن ہو جاتا۔ ہم بعد میں تجربے کو چاہتے تھے اور سب جانتے ہیں کہ وہ کتنے بڑے فنشر ہیں۔ اس معاملے پر پوری ٹیم متفق تھی کہ دھونی کو بعد میں اتارا جائے۔
      First published: