ہوم » نیوز » اسپورٹس

پاکستان کے لئے کھیلنا چاہتا ہے دنیا کا سب سے لمبا کرکٹر، لمبائی اور جوتے کا نمبر جان کر رہ جائیں گے حیران

 اب پاکستان (Pakistan) میں 7 فٹ اور 6 انچ لمبا ایک کرکٹر سرخیوں میں بنا ہوا ہے۔ اس کھلاڑی کے جوتے کا نمبر 23.5 ہے۔ مدثرگجرMudassar)(Gujjar نام کا یہ کرکٹر پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم میں آنے کے لئے دستک دے رہا ہے۔

  • Share this:
پاکستان کے لئے کھیلنا چاہتا ہے دنیا کا سب سے لمبا کرکٹر، لمبائی اور جوتے کا نمبر جان کر رہ جائیں گے حیران
پاکستان کے لئے کھیلنا چاہتا ہے دنیا کا سب سے لمبا کرکٹر

نئی دہلی: پاکستان نے عالمی کرکٹ کو گیند بازی اور بلے بازی دونوں میں ہی کئی بڑے کھلاڑی دیئے ہیں۔ عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس، انضمام الحق، سعیدانور کچھ ایسے ہی کھلاڑی ہیں۔ اب پاکستان میں 7 فٹ اور 6 انچ لمبا ایک کرکٹر سرخیوں میں بنا ہوا ہے۔ اس کھلاڑی کے جوتے کا نمبر 23.5 ہے۔ مدثرگجر نام کا یہ کرکٹر پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم میں آنے کے لئے دستک دے رہا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کوئی 7 فٹ سے اونچا کھلاڑی پاکستان کرکٹ میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اس سے پہلے محمد عرفان (7 فٹ ایک انچ) نے بھی سرخیاں بٹوری تھیں۔


پاکستان میں ان دنوں ایک دراز قد تیز گیند باز کے چرچے ہیں، جس کی لمبائی 7 فٹ 6 انچ ہے وہ سرخیوں میں ہے اور اپنی قومی ٹیم میں جگہ بنانے کے لئے تیار ہے۔ تاہم، یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پاکستان کے اتنے لمبے کھلاڑی نے سب کی توجہ مبذول کرائی ہو۔ اس سے قبل 7 فٹ ایک انچ لمبے تیز گیند باز محمد عرفان بھی پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ 2010 میں انہوں نے اپنا ون ڈے ڈیبیو کیا تھا اور اس کے قد کے بارے میں بہت چرچا ہوا تھا۔ اگرچہ محمد عرفان ٹیم کے اندر اور باہر آتے جاتے رہے، لیکن انہوں نے اپنے قد اور گیند بازی سے بہت سے بلے بازوں کو ڈرایا۔



محمد عرفان کے بعد اب ایک اور دراز قد کھلاڑی کا نام سامنے آرہا ہے۔ مدثر گجر نامی یہ کھلاڑی مسلسل لاہور قلندر اور پاکستان کرکٹ ٹیم میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مدثر کی لمبائی 7 فٹ 6 انچ ہے اور 23.5 انچ کے جوتے پہنتے ہیں۔ گذشتہ سال مدثر نے اپنی بولنگ کو بہتر بنانے کے لئے لاہور قلندر کے ترقیاتی پروگرام میں حصہ لیا تھا۔ اگرچہ اس کی لمبائی کی وجہ سے اسے خوبصورتی کے ساتھ کچھ پریشانیوں کا سامنا ہے لیکن وہ اس پر کام کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کے کیریئر کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔



جہاں تک اگلے پاکستان سپرلیگ کا سوال ہے تو وہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے مالی ماملات پر کچھ چرچا کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ 6 ٹیموں نے بورڈ کو مشترکہ درخواست دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی مالی ماڈل نہ ہونے کے سبب ٹیموں کے مالکان کو لاکھوں روپئے کا نقصان ہوا ہے۔ ٹیموں نے یہ بھی کہا کہ مالی ماڈل ہمیشہ پی سی بی کو فیور کرتا ہے۔ پی سی بی یہ امید کر رہا ہے کہ پی ایس ایل 2020 کے جو میچ کورونا وائرس وبا کے سبب نہیں ہوپائے تھے، انہیں منعقد کرایا جائے، لیکن ابھی حالات جوں کے توں بنے ہوئے ہیں۔

 

 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 09, 2020 06:33 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading