اپنا ضلع منتخب کریں۔

    اب ریسلنگ فیڈریشن کی نگرانی کمیٹی کو لے کر تنازع، پہلوانوں کا الزام، ہماری رائے تک نہیں لی گئی

    اب ریسلنگ فیڈریشن کی نگرانی کمیٹی کو لے کر تنازع، پہلوانوں کا الزام، ہماری رائے تک نہیں لی گئی ۔ فائل فوٹو ۔ پی ٹی آئی ۔

    اب ریسلنگ فیڈریشن کی نگرانی کمیٹی کو لے کر تنازع، پہلوانوں کا الزام، ہماری رائے تک نہیں لی گئی ۔ فائل فوٹو ۔ پی ٹی آئی ۔

    Wrestlers' protest against WFI: ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف جنسی استحصال کے الزامات کی جانچ کے لئے بنائی گئی کمیٹی کو لے کر اب تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ در اصل پیر کی شام کو وزارت کھیل نے لیجنڈ باکسر ایم سی میری کام کی صدارت میں پانچ رکنی مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی تھی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | New Delhi
    • Share this:
      نئی دہلی : ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف جنسی استحصال کے الزامات کی جانچ کے لئے بنائی گئی کمیٹی کو لے کر اب تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ در اصل پیر کی شام کو وزارت کھیل نے لیجنڈ باکسر ایم سی میری کام کی صدارت میں پانچ رکنی مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی کے دیگر ارکان میں اولمپک میڈلسٹ پہلوان یوگیشور دت، سابق بیڈمنٹن کھلاڑی اور مشن اولمپک سیل کی رکن ترپتی مرگنڈے، ٹاپس کے سابق سی ای او راجگوپالن اور اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کی سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ٹیم) رادھیکا شریمن شامل ہیں۔ یہ کمیٹی اگلے ایک ماہ تک ڈبلیو ایف آئی کے روزمرہ کے کام کاج کو بھی دیکھے گی ۔

      تاہم پہلوان ساکشی ملک اور بجرنگ پونیا نے حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی اس مانیٹرنگ کمیٹی کے بارے میں مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ان دونوں نے منگل کو اس بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ مانیٹرنگ کمیٹی کی تشکیل سے پہلے ہم سے مشاورت کی جائے گی۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ اس کمیٹی کے قیام سے پہلے ہم سے مشورہ بھی نہیں کیا گیا۔ ان دونوں پہلوانوں نے اپنے ٹویٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر کھیل انوراگ ٹھاکر کو بھی ٹیگ کیا ہے۔



      دوسری جانب وزارت کھیل سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کمیٹی میں شامل 5 اراکین میں سے 3 کو ان 'احتجاجی' پہلوانوں کی تجویز پر ہی رکھا گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق وزارت کھیل سے وابستہ ذرائع نے بتایا کہ مانیٹرنگ کمیٹی میں پانچ میں سے تین نام ان (احتجاجی) پہلوانوں نے تجویز کئے تھے، لیکن اب ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں لوپ میں نہیں لیا گیا تھا۔

      بتادیں کہ ونیش پھوگاٹ، بجرنگ پونیا، ساکشی ملک اور روی دہیا سمیت ملک کے چوٹی کے پہلوانوں کے ڈبلیو ایف آئی اور شرن کے خلاف تین روزہ ہڑتال کرنے کے بعد وزیر کھیل انوراگ ٹھاکر نے ہفتہ کو کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جمعہ کی رات دیر ہوئی ٹھاکر کے ساتھ دوسرے دور کی میراتھن میٹنگ کے بعد ان پہلوانوں نے اپنا دھرنا ختم کر دیا تھا۔

      یہ بھی پڑھئے: آخر برج بھوشن پر ہوئی کارروائی، جانچ ہونے تک عہدے سے ہٹیں گے، بجرنگ نے کیا یہ اعلان


      یہ بھی پڑھئے: برج بھوشن کے استعفے پر بضد پہلوان، وزیر کھیل سے ملاقات رہی بے نتیجہ، آج پھر ہوگی میٹنگ



       

      انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ ڈبلیو ایف آئی کے صدر اپنے کام نہیں کریں گے اور ڈبلیو ایف آئی کے روزمرہ کے کام کاج سے دور رہیں گے۔ ڈبلیو ایف آئی کے یومیہ کام کاج کی نگرانی کمیٹی ایک مقررہ مدت کیلئے کرے گی اور ڈبلیو ایف آئی اور اس کے سربراہ کے خلاف سنگین الزامات کی بھی جانچ کرے گی۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: