اپنا ضلع منتخب کریں۔

    گوگل کے سینئر ایگزیکٹوز کی تنخواہوں میں کٹوتیوں کا اعلان، سی ای او سندر پچائی نے کیااعلان

    گوگل نے ستمبر میں ہی اے آر فیچر کا تفصیل سے ذکر کیا تھا اور آب نومبر کے آخر تک دنیا کے کچھ حصوں میں صارفین گوگل میپ کے لائیو ویو خصوصیات کا فوائد اٹھا سکتے ہیں۔

    گوگل نے ستمبر میں ہی اے آر فیچر کا تفصیل سے ذکر کیا تھا اور آب نومبر کے آخر تک دنیا کے کچھ حصوں میں صارفین گوگل میپ کے لائیو ویو خصوصیات کا فوائد اٹھا سکتے ہیں۔

    سندر پچائی نے کہا کہ سینئر نائب صدر کی سطح سے اوپر کی تمام ملازمتیں اپنے سالانہ بونس میں بہت اہم کمی کا مشاہدہ کریں گے۔ سینئر ملازمین کے لیے معاوضہ کمپنی کی کارکردگی سے منسلک ہوتا ہے۔ دریں اثنا برطرفی عالمی سطح پر ہوگی۔ پچائی نے جمعہ کو ایک ای میل میں ملازمین کو بتایا تھا

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • USA
    • Share this:
      لاگت میں کمی کے اقدامات کے تحت گوگل کے سینئر ایگزیکٹوز کو اس سال تنخواہوں میں کٹوتیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس سے قبل کمپنی نے دنیا بھر میں تقریباً 12,000 ملازمتوں یا 6 فیصد افرادی قوت کو کم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ سی این بی سی ٹی وی 18 کی رپورٹ کے مطابق گوگل کی تاریخ میں برطرفی کے ’سب سے بڑے‘ دور کو حل کرنے کے لیے پیر کے روز ایک میٹنگ میں سی ای او سندر پچائی نے کہا کہ کمپنی کے لاگت میں کمی کے اقدامات کے حصے کے طور پر اعلیٰ افسران کو تنخواہوں میں کٹوتیوں کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

      سندر پچائی نے کہا کہ سینئر نائب صدر کی سطح سے اوپر کی تمام ملازمتیں اپنے سالانہ بونس میں بہت اہم کمی کا مشاہدہ کریں گے۔ سینئر ملازمین کے لیے معاوضہ کمپنی کی کارکردگی سے منسلک ہوتا ہے۔ دریں اثنا برطرفی عالمی سطح پر ہوگی۔ پچائی نے جمعہ کو ایک ای میل میں ملازمین کو بتایا تھا اور لکھا تھا کہ وہ ان فیصلوں کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں جن کی وجہ سے کمپنی یہاں تک پہنچی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      انہوں نے کہا کہ برطرفی کا فیصلہ بانی اور کنٹرولنگ شیئر ہولڈرز سرگئی برن اور لیری پیج کے ساتھ ساتھ بورڈ آف ڈائریکٹرز سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔ پچائی کو بڑے پیمانے پر برطرفی کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، انھوں نے 23 جنوری کو ایک اندرونی میٹنگ میں ملازمین سے بات کی۔

      پچائی اور کمپنی کے دیگر سینئر ایگزیکٹوز نے کہا کہ 750 سینئر لیڈر اس عمل میں شامل تھے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ کس کو فارغ کیا جائے گا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: