உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Dating apps: کیا ڈیٹنگ ایپس میں کیےجانے والےوعدے حقیقی ہوتےہیں؟ آخرکیوں کیےجاتےہیں یہ وعدے؟

    ہزاروں ہم جنس پرست مردوں اور عورتوں کی عمر 60 سال سے زیادہ ہے۔

    ہزاروں ہم جنس پرست مردوں اور عورتوں کی عمر 60 سال سے زیادہ ہے۔

    Dating apps: جینیفر شرلاک نے کہا کہ سب سے پہلے تو ڈیٹنگ ایپس کے استعمال کنندگان اپنی حقیقی شناخت کو ظاہر نہیں کرتے اور اگر ظاہر کرتے بھی ہیں تو وہ مکمل طور پر صحیح نہیں ہوت۔ جینیفر شرلاک کا کہنا ہے کہ ان ڈیٹنگ ایپس پر لوگوں کو اپنی نجی زندگی کے بارے میں زیادہ تفصیلات کو شیئر نہیں کرنا چاہیے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Hyderabad | Mumbai | Goa | USA
    • Share this:
      عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) کے دوران دنیا بھر میں کئی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑی تبدیلی آفس کے بجائے گھر سے کام کی ہوئی ہے۔ جس کے وجہ سے دنیا بھر کے ملازمین آفس کے کام اپنے گھروں سے ہی انجام دے رہے ہیں۔ ایسے میں لوگ اپنے آپ کو تنہا محسوس کررہے ہیں۔ دی گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق لوگ تنہائی کے اس دور میں اپنے آپ کو متحرک رکھنے کے لیے مختلف ڈیٹنگ ایپس (Dating apps) کا استعمال کررہے ہیں۔ ان پیلٹ فارمس پر وہ ایک دوسرے سے پیار، محبت اور آپسی تعلق کی باتیں کرتے ہیں۔

      کورونا وائرس کی وبا کے دوران جینیفر شرلاک (Jennifer Sherlock) بھی ان ہزاروں یوزرس میں سے ایک ہے، جو کہ لوگوں سے مل کر تنہائی کو ختم کرنا چاتہی ہے اور وہ ’’سچی محبت‘‘ کی تلاش میں ہے۔ جینیفر شرلاک چند مردوں کے ساتھ باہر گئی جن سے وہ ڈیٹنگ ایپس کے ذریعہ متعارف ہوئی تھی۔ جینیفر شرلاک کا کہنا ہے کہ ان ایپس کے استعمال کے دوران کئی لوگوں سے بات چیت ہوئی۔ ان میں سے چند ایک نے باتوں باتوں میں کچھ وعدے بھی کیے ہیں۔

      ’میں تمہاری ہر خواہش کو پورا کروں گا‘

      جینیفر بتاتی ہیں کہ ’’ہم دونوں ایک ساتھ مل کر رہیں گے‘‘۔ ’’میں تمہاری ہر خواہش کو پورا کروں گا‘‘۔ ’’ہم دونوں ایک ساتھ محبت کے جذبات کو ایک دوسرے سے شیئر کریں گے‘‘۔ ’’ہم ایک دوسرا کا ہمیشہ کے لیے سہارا بن سکتے ہیں‘‘۔ یہ اور اس طرح کے کئی وعدے ہیں، جو کہ ڈیٹنگ ایپس میں کیے جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ وعدے ورچوئل دنیا سے ہٹ کر حقیقی بھی ہوتے ہیں؟ کیا یہ وعدے لوگ سوچ سمجھ کر کرتے ہیں؟ جینیفر شرلاک نے ان سوالوں کے بارے میں کئی طرح کے جوابات دیئے ہیں۔

      جینیفر شرلاک نے کہا کہ سب سے پہلے تو ڈیٹنگ ایپس کے استعمال کنندگان اپنی حقیقی شناخت کو ظاہر نہیں کرتے اور اگر ظاہر کرتے بھی ہیں تو وہ مکمل طور پر صحیح نہیں ہوت۔ جینیفر شرلاک کا کہنا ہے کہ ان ڈیٹنگ ایپس پر لوگوں کو اپنی نجی زندگی کے بارے میں زیادہ تفصیلات کو شیئر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ کوئی ایسا مقام نہیں ہے کہ جس سے آپ کی شخصیت کے لیے یا کے متعلقہ پیشے کے لیے کچھ بہتر ہوسکے۔

      انھوں نے بتایا کہ اسے لوگوں کو فلٹر کرنے کے لیے ایک طریقہ دستیاب ہے، اس لیے جینیفر نے ذاتی طور پر کسی سے ملنے کے لیے راضی ہونے سے پہلے ویڈیو چیٹ کرنا شروع کیا۔ نیو جرسی میں رہنے والی پی آر کنسلٹنٹ جینیفر نے کہا کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو کورونا وبا کے بعد بھی جاری رہے گا۔

      ڈیٹنگ ایپس کے استعمال میں اضافہ:

      شیرلاک اس وبائی مرض کے دوران ڈیٹنگ ایپس کے استعمال کے طریقے کو تبدیل کرنے میں واحد خاتون نہیں ہے، بہت سے یوزرس نے اس تبدیلی کے ساتھ اپنے آپ کو تبدیل کیا ہے۔ پچھلے 18 مہینوں کی سماجی دوری کے باوجود عام طور پر ڈیٹنگ ایپس کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ لوگ اپنے تنہائی کے وقت کو گزارنے کے لیے ان ایپس کو استعمال کرتے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      Swiggy, Zomato جیسے ایپ سے آن لائن کھانا منگانا 60 فیصد تک مہنگا؟ سروے سے بڑا انکشاف

      مشہور ڈیٹنگ ایپ ٹنڈر (Tinder) نے اطلاع دی کہ 2020 اس کا اب تک کا مصروف ترین سال رہا ہے۔ اس سال اس کے صارفین میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح ایک اور ایپ ہنگ (Hinge) نے 2019 سے 2020 تک اپنی آمدنی میں تین گنا اضافہ کیا اور کمپنی کو توقع ہے کہ اس سال اس سے دوگنا ہو جائے گا۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      مرد اس خاتون کو گڑیا کے طور پر سمجھتے ہیں لیکن حقیقی زندگی میں نہیں رکھنا چاہتا کوئی رشتہ، جانئے پورا ماجرا



      ٹنڈر نے پچھلے مہینے نئے ٹولز کا اعلان کیا جو صارفین کو ایک دوسرے سے متعارف کرانے کے لیے کئی آپشن فراہم کرتا ہے۔ لوگ اب اپنے پروفائل میں ویڈیوز شامل کر سکیں گے اور دوسروں کے ساتھ میچ کرنے سے پہلے ہی ان کے ساتھ چیٹ بھی کر سکیں گے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: