உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Article 370 abrogation: دفعہ 370 کی منسوخی کےتین سال مکمل، جموں وکشمیر میں کیاآئی تبدیلی؟

    ''ریاست کو بحال کرنا ابھی باقی ہے""

    ''ریاست کو بحال کرنا ابھی باقی ہے""

    اس دوران سالانہ امرناتھ یاترا (Amarnath Yatra) کو بھی مختصر کر دیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب پابندیاں اٹھائی جا رہی تھیں، تو عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) شروع ہو گیا۔ جس نے خطے کے بہت سے باشندوں کو معاشی بحران کی لپیٹ میں لے لیا۔

    • Share this:
      جموں و کشمیر (Jammu and Kashmir) میں دفعہ 370 کی منسوخی (Article 370 abrogation) کے تین سال ہوچکے ہیں۔ اس کی وجہ سے جموں و کشمیر کو اس کی خصوصی حیثیت اور اس کے ڈومیسائل قوانین میں تبدیلی کی گئی۔ 5 اگست 2019 سے ریاست کو جموں و کشمیر (Jammu and Kashmir) اور لداخ (Ladakh) کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔

      دی فری پریس جنرل کے مطابق یہ تاریخی اقدام وادی کشمیر میں بہت سی پابندیوں اور کرفیو جیسی صورتحال کے ساتھ اٹھایا گیا۔ اگرچہ حکام نے پابندیاں ہٹا دیں اور زیر حراست سیاستدانوں کو رہا کر دیا، لیکن وعدے کے مطابق ریاست کو بحال کرنا ابھی باقی ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم ان تبدیلیوں کا جائزہ لیں جو وادی میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سے پچھلے تین سال میں کیا تبدیلی ہوئی ہے، آئیے اس کی اہمیت کو سمجھیں:

      دفعہ 370 کیا ہے؟

      ہندوستانی آئین (Indian Constitution) کے دفعہ 370 نے جموں و کشمیر کو ہندوستانی یونین کے اندر ایک خصوصی خود مختار حیثیت دی ہے۔ نتیجتاً ریاست نے اپنا آئین بنایا جسے دستور ساز اسمبلی نے 17 نومبر 1956 کو باضابطہ طور پر اپنایا۔ ریاست جموں و کشمیر نے اپنا آئین نافذ کیا، جو 26 جنوری 1957 کو نافذ ہوا۔

      تب وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو (Pandit Jawaharlal Nehru) نے جموں و کشمیر کے وزیر اعظم شیخ عبداللہ (Sheikh Abdullah) کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس میں ہندوستان کے شہریت کے قانون کو ریاست پر لاگو کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور ریاست کو اپنے مستقل باشندوں کے حقوق اور مراعات کو منظم کرنے کی اجازت دی گئی۔

      اس معاہدے کو ہندوستان کے صدر کے ذریعہ مرتب کیا گیا تھا، جسے آئین کے دفعہ 370(1) کے مطابق بنایا گیا تھا، جس نے ہندوستانی آئین میں آرٹیکل 35 اے کا اضافہ کیا تھا۔

      دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کی منسوخی:

      5 اگست 2019 کو راجیہ سبھا نے دفعہ 370 (3) کے مطابق دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کی سفارش کرتے ہوئے ایک قانونی قرارداد منظور کی تھی۔ 6 اگست کو صدر نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے لیے قرارداد پر عمل درآمد کیا۔

      اس کے ساتھ ہی ہندوستان کی پارلیمنٹ نے جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ، 2019 (Jammu and Kashmir Reorganisation Act, 2019) بھی منظور کیا۔ اسے 9 اگست 2019 کو صدارتی منظوری ملی۔ حکومت نے برقرار رکھا ہے کہ دفعہ 370 کو ریاست کی "معاشی ترقی اور نمو" کے لیے منسوخ کیا گیا ۔

      وادی سے رابطہ منقطع کرنا:

      یہ بھی پڑھیں:

      چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کے بعد اگلے CJI کون؟ جسٹس ادے امیش للت کی سفارش

      دی فری پریس جنرل کے مطابق جموں و کشمیر دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد مہینوں تک کرفیو کی زد میں رہا۔ حکومت نے لینڈ لائن، موبائل اور انٹرنیٹ مواصلات کاٹ دیا جبکہ سیاسی رہنماؤں، کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایسا بدامنی سے بچنے اور احتجاج کو روکنے کے لیے کیا گیا۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Covid-19: کورونا نے پھر بڑھائی تشویش، کیا آنے والی ہے نئی لہر؟ ماہرین نے کہی یہ بات

      اس دوران سالانہ امرناتھ یاترا (Amarnath Yatra) کو بھی مختصر کر دیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب پابندیاں اٹھائی جا رہی تھیں، تو عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) شروع ہو گیا۔ جس نے خطے کے بہت سے باشندوں کو معاشی بحران کی لپیٹ میں لے لیا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: