உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیا 2030 تک خلابازچاندپرزندہ رہ کرکام بھی کرسکتےہیں؟ یہ کیسےممکن ہوگا؟ ناسانےکی وضاحت

    انسان 2030 سے ​​پہلے چاند پر فعال طور پر مدت کے لیے رہ سکتا ہے۔

    انسان 2030 سے ​​پہلے چاند پر فعال طور پر مدت کے لیے رہ سکتا ہے۔

    ہاورڈ نے اس مشن کو طویل مدتی گہری خلائی تحقیق کی طرف پہلا قدم قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے لیے یہ اہم پیش رفت ہوگی۔ انہوں نے لانچ کے دن کو ناسا کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے لیے بھی ایک تاریخی دن قرار دیا جو انسانی خلائی پرواز اور گہری خلائی تحقیق کا جنون رکھتے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • USA
    • Share this:
      کیا آپ کرۂ ارض پر رہتے رہتے اکتا چکے ہیں؟ کیا اب آپ نئی دنیا آباد کرنا چاہتے ہیں؟ کیا زندگی بسر کرنے کے لیے زمین کے بجائے چاند بہتر متبادل بن سکتا ہے؟ چاند پر رہنے کا خیال آپ کو کتنا اچھا لگتا ہے؟ چاند سے اپنے سیارے پر جھانکنا واقعی ایک ’خوشگوار‘ تجربہ ہوگا۔ ایسے میں ناسا (NASA) کے ایک اہلکار نے اہم وضاحت کی ہے۔ ان کے مطابق رواں دہائی کے آخر تک ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔ امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے اورین قمری خلائی جہاز (Orion lunar spacecraft) کے پروگرام کے سربراہ ہاورڈ ہو نے کہا کہ انسان 2030 سے ​​پہلے چاند پر فعال طور پر مدت کے لیے رہ سکتا ہے۔

      ان کا کہنا ہے کہ اس کا نہ صرف یہ مطلب ہے کہ چاند پر لوگوں کی رہائش گاہیں ہوں گی، بلکہ  ان کے کام میں مدد کے لیے چاروں طرف وسائل بھی ہوں گے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہاورڈ نے کہا کہ یقینی طور پر اس دہائی میں ہم لوگ چاند پر مدتوں تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ہم کتنی دیر تک اس کی سطح پر رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم لوگوں کو سطح پر بھیجنے جا رہے ہیں اور وہ اس سطح پر رہ کر سائنسی تحقیقات کریں گے۔

      ہاورڈ ہو لیڈ اورین مینیجر ہے۔ وہ ناسا کے اورین کے ڈیزائن، ترقی، پیداوار اور آپریشنز کے لیے ذمہ دار ہے، جو چاند کے گرد اپنا پہلا فلائٹ ٹیسٹ کر رہے پیں۔ تکنیکی خرابیوں کے بعد یہ لانچ گزشتہ ہفتے فلوریڈا کے کیپ کیناورل سے ہوئی۔ بغیر عملے کے اورین خلائی جہاز اپنے آرٹیمیس I سفر کے تیسرے دن چاند کے آدھے سے زیادہ راستے پر پہنچ چکا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      ہاورڈ نے اس مشن کو طویل مدتی گہری خلائی تحقیق کی طرف پہلا قدم قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم پیش رفت ہوگی۔ انھوں نے لانچ کے دن کو ناسا کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے لیے بھی ایک تاریخی دن قرار دیا جو انسانی خلائی پرواز اور گہری خلائی تحقیق کا جنون رکھتے ہیں۔

      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: