உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Twitter نے دیا ایڈٹ بٹن کا آپشن، اب آپ ٹویٹ کرنے کے بعد بھی اس کو کرپائیں گے ایڈٹ

    Twitter  نے دیا ایڈٹ بٹن کا آپشن، اب آپ ٹویٹ کرنے کے بعد بھی اس کو کرپائیں گے ایڈٹ ۔ علامتی تصویر ۔

    Twitter نے دیا ایڈٹ بٹن کا آپشن، اب آپ ٹویٹ کرنے کے بعد بھی اس کو کرپائیں گے ایڈٹ ۔ علامتی تصویر ۔

    Twitter News: ٹویٹر نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اب اپنے یوزرس کو ٹویٹ کرنے کے بعد اس میں ایڈٹ کرنے کا بھی آپشن دیا ہے ۔ یعنی اب آپ ٹویٹس کرنے کے بعد انہیں ایڈٹ بھی کرپائیں گے ۔ ٹویٹ نے ایڈٹ بٹن کا آپشن شروع کردیا ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Mumbai | Kolkata | Chennai
    • Share this:
      نئی دہلی : ٹویٹر کو لے کر بڑی خبر سامنے آئی ہے ۔ اب آپ فیس بک اور انسٹاگرام کی طرح ٹویٹ کرنے کے بعد اس کو بھی ایڈٹ کرسکیں گے ۔ اس کیلئے ٹویٹر نے ایڈٹ بٹن شروع کردیا ہے ۔ حالانکہ شروعات میں صرف ویریفائیڈ اکاونٹ کو ہی یہ سہولت ملے گی ۔ ٹویٹ کو ایڈٹ کرنے کا مطالبہ یوزرس طویل عرصہ سے کررہے تھے ۔ خود ٹیسلا کے سی ای او ایلن مسک نے ٹویٹ کے ذریعہ ایڈٹ بٹن شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: Asia Cup 2022:پاکستان کا گیندباز پھر قہر ڈھانے کیلئے ہے تیار، ہوسکتا ہے ہندوستان سے مقابلہ


      ٹویٹ کرنے کے بعد یوزر اس کو اگلے آدھے گھنٹے تک ایڈٹ کرسکیں گے ۔ ٹویٹر نے فی الحال اس کی ٹیسٹنگ شروع کی ہے ۔ ٹویٹر نے ٹویٹ کرکے کہا کہ اگر آپ کو اپنے اکاونٹ پر ایڈٹ کا بٹن دکھ رہا ہے تو یہ ٹیسٹنگ کیلئے ہورہا ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ شروعات میں یہ سہولت صرف ان لوگوں کو ملے گی ، جن کا اکاونٹ ویریفائیڈ ہے ۔


      یہ بھی پڑھئے: Asia Cup: پاکستان کے لیجنڈ نے روہت پر سادھا نشانہ، کیا آپ کو ہانگ کانگ سے ہارنے کا تھا ڈر


      اگر آپ نے ٹویٹ کردیا ہے اور آپ اس کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو بدلنے کا آپشن تو ملے گا، لیکن آپ کو اس کی پوری ہسٹری بھی دکھائی دے گی ۔ یعنی پہلے ٹویٹ سے لے کر بدلے گئے ٹویٹ تک۔ حالانکہ ہندوستان میں یہ سہولت کب سے ملے گی، یہ کہہ پانا مشکل ہے ، لیکن ویریفائیڈ ٹویٹر اکاونٹ والوں کو یہ سہولت ملنی طے ہے ۔ اس کے ساتھ ہی اگر کوئی شخص آپ کا ٹویٹ دیکھ رہا ہے تو وہ سمجھ جائے گا کہ ٹویٹ ایڈٹ کیا گیا ہے ۔

      خیال رہے کہ اب تک ایک مرتبہ ٹویٹ کئے گئے مواد کو ایڈٹ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ تبدیلی کرنے کی صورت میں پرانے ٹویٹ کو ڈیلیٹ کرکے پھر سے ٹویٹ کرنا پڑتا تھا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: