اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ’چینی ٹرولرز اسلام کی توہین اور پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کے مرتکب، دی امریکہ ٹائمز کے مدیر نے کیا انکشاف

    اس سے قبل 2015 میں چارلی ہیبڈو حملے کے بعد ایک صارف نے واضح طور پر کہا تھا کہ مذہب کا نسل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارے ملک کی مذہبی پالیسی اور نسلی پالیسی میں 108,000 میل کا فاصلہ ہے۔

    اس سے قبل 2015 میں چارلی ہیبڈو حملے کے بعد ایک صارف نے واضح طور پر کہا تھا کہ مذہب کا نسل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارے ملک کی مذہبی پالیسی اور نسلی پالیسی میں 108,000 میل کا فاصلہ ہے۔

    اس سے قبل 2015 میں چارلی ہیبڈو حملے کے بعد ایک صارف نے واضح طور پر کہا تھا کہ مذہب کا نسل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارے ملک کی مذہبی پالیسی اور نسلی پالیسی میں 108,000 میل کا فاصلہ ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • USA
    • Share this:
      دی امریکہ ٹائمز کے مدیر تھیوڈورس بیناکیس (Theodoros Benakis) لکھتے ہیں کہ چین کی اویغور مسلمانوں (Uyghur Muslims) کے خلاف نسل کشی کی پالیسی ایک نئے مرحلے میں پہنچ گئی ہے، کیونکہ ووماؤ فوج یا ’50 سینٹ آرمی‘ اسلام کی توہین کرتی ہے اور پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی اہانت میں مصروف ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اویغور ایک ترک نسلی گروہ ہے، جو سنکیانگ ایغور خود مختار علاقے میں آباد ہے۔

      سوشل میڈیا اسپیس میں ووماؤ آرمی (Wumao army) چین کے حمایت یافتہ انٹرنیٹ مبصرین کا ایک گروپ ہے، اسے اکثر ایغور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے دیکھا جاتا ہے۔ یہ گروپ سوشل میڈیا پر اکثر مسلمانوں کو انتہا پسند اور دہشت گرد قرار دیتا ہے، حالانکہ عوامی جمہوریہ چین (PRC) مسلم ممالک جیسے پاکستان، انڈونیشیا یا جزیرہ نما عرب کے ساتھ قریبی تعلقات کو فروغ دیتا ہے۔

      بے قابو ٹرولنگ اور اسلام کی تذلیل تمام حدیں پار کرچکی ہے اور صارفین کے اس گروپ نے کچھ ایسے ریمارکس کیے جو دنیا کے کسی اور حصے میں کیے جاتے تو عوام میں غم و غصہ پیدا ہوتا۔ ویبو آرمی سنکیانگ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر، اسلام کی توہین اور بیجنگ کے امتیازی سلوک کو جواز بنا کر حکومت کی مدد کرتی ہے۔

      حال ہی میں چین کے مسلمانوں نے انکشاف کیا کہ شی جن پنگ کی نئی چینی ثقافتی پالیسی کو تقویت دینے کے لیے سنکیانگ اور مین لینڈ میں اسلامو فوبیا کا استعمال کیا جاتا ہے۔ دریں اثنا چین کی ٹویٹر کی جگہ ویبو کو چینی شہری اسلام ترک کرنے کے جواز کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

      مغربی میڈیا میں سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بننے والا پروپیگنڈہ اسلامو فوبیا ہے۔ اس گروپ کے ذریعہ چینی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے اور انہیں الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ سنکیانگ میں نافذ کی گئی پالیسیوں کے تحت چینی آبادی کی حمایت بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      تھیوڈورس بیناکیس کے مطابق سوشل میڈیا پر پوسٹس کے ذریعے ووماؤ آرمی اسلام کی توہین کرتی ہے اور پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کا بھی ارتکاب کرتی ہے۔

      اس سے قبل 2015 میں چارلی ہیبڈو حملے کے بعد ایک صارف نے واضح طور پر کہا تھا کہ مذہب کا نسل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارے ملک کی مذہبی پالیسی اور نسلی پالیسی میں 108,000 میل کا فاصلہ ہے۔ کوئی بھی یہ شرط نہیں لگاتا کہ ایک مخصوص نسلی گروہ کو کسی خاص مذہب پر یقین رکھنا چاہیے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: