اپنا ضلع منتخب کریں۔

    کرناٹک میں پروفیسر کی جانب سے طالب علم پر میبنہ ریمارکس پر یونیورسٹی انتظامیہ کا ایکشن! مسلم طالب علم کو کہا دہشت گرد

    اس واقعے پر متعدد ٹوئٹر صارفین کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے جو طالب علم کی حمایت میں سامنے آئے ہیں اور اس کی ہمت کی تعریف کی ہے۔ مذکورہ طالب علم کا نام نہیں بتایا گیا، کلاس میں پروفیسر کی طرف سے مبینہ طور پر دہشت گرد کہنے پر وہ حیران رہ گیا۔

    اس واقعے پر متعدد ٹوئٹر صارفین کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے جو طالب علم کی حمایت میں سامنے آئے ہیں اور اس کی ہمت کی تعریف کی ہے۔ مذکورہ طالب علم کا نام نہیں بتایا گیا، کلاس میں پروفیسر کی طرف سے مبینہ طور پر دہشت گرد کہنے پر وہ حیران رہ گیا۔

    اس واقعے پر متعدد ٹوئٹر صارفین کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے جو طالب علم کی حمایت میں سامنے آئے ہیں اور اس کی ہمت کی تعریف کی ہے۔ مذکورہ طالب علم کا نام نہیں بتایا گیا، کلاس میں پروفیسر کی طرف سے مبینہ طور پر دہشت گرد کہنے پر وہ حیران رہ گیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Karnataka, India
    • Share this:
      کرناٹک کے اڈوپی ضلع میں مانیپال انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (Manipal Institute of Technology) نے پیر کےروز ایک پروفیسر پر اس وقت کلاس لینے پر پابندی لگا دی جب انھوں نے مبینہ طور پر ایک طالب علم کو دہشت گرد کہا۔ طالب علم کی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہو رہی ہے جس نے پروفیسر کو دہشت گرد قرار دینے کی وجہ سے بروقت ان سے بحث کی ہے اور انھیں اس پر ٹوکا ہے۔

      کرناٹک کے ساحلی علاقے میں واقع مذکورہ ادارے نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ایم آئی ٹی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ لیکچرر کو مزید کلاس لینے سے روک دیا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ دوران کلاس پروفیسر نے مبینہ طور پر ایک طالب علم کو 'قصاب' کہا، جو ممبئی میں 26/11 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے مجرم کا حوالہ ہے کیونکہ طالب علم کا نام ایک جیسا ہے۔

      جب طالب علم نے انھیں ٹوکا تو لیکچرر نے معافی مانگی۔ اس نے کہا کہ آپ ایسے بیانات کیسے دے کر سکتے ہیں؟ طالب علم آن لائن شیئر ہونے والی ویڈیو میں پوچھ رہا ہے۔ پروفیسر نے اپنے چونکا دینے والے تبصرے کو مذاق کے طور پر مسترد کرنے کی کوشش کی لیکن طالب علم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیا 26/11 مضحکہ خیز نہیں ہے... مسلمان ہونا اور اس ملک میں ایسی چیزوں کا سامنا کرنا مضحکہ خیز نہیں ہے، کلاس میں سب کے سامنے آپ مجھے دہشت گرد کیسے کہہ سکتے ہیں؟ معذرت کیجیے! صرف معذرت سے کام نہیں چلے گا سر! یہ نہیں بدلتا کہ آپ یہاں اپنے آپ کو کیسے پیش کرتے ہیں


      ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک پروفیسر کو ایک طالب علم کا دہشت گرد سے موازنہ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، پروفیسر کی جانب سے طالب علم کو قصاب کے نام سے پکارتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اسی دوران پروفیسر نے معافی مانگی، لیکن طالب علم نے کہا کہ یہ معافی کا مسئلہ نہیں، یہ آپ کے ذہنیت کا مسئلہ ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے پروفیسر کو کلاسز سے روک دیا ہے۔


      یہ بھی پڑھیں: 

      ویڈیو میں اڈوپی کی ایک نجی یونیورسٹی کا طالب علم شعبہ کے اسسٹنٹ پروفیسر سے سوال کرتا ہوا نظر آرہا ہے جس کے بعد ایک بحث ہوئی۔ تاہم پروفیسر نے کہا کہ یہ بات مزاحیہ انداز میں کہی گئی۔ ملک میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کے درمیان منی پال انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، کرناٹک کے ایک نوجوان مسلم طالب علم نے اپنے پروفیسر کو مبینہ طور پر ان کی مذہبی شناخت پر دہشت گرد کہنے پر بروقت بحث کی۔ ایک ویڈیو میں مسلم طالب علم کو اپنے پروفیسر سے ان کے مبینہ اسلامو فوبک ریمارکس پر سوال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ جسے وہاں موجود دوسرے طالب علم نے ریکارڈ کیا ہے۔

      اس واقعے پر متعدد ٹوئٹر صارفین کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے جو طالب علم کی حمایت میں سامنے آئے ہیں اور اس کی ہمت کی تعریف کی ہے۔ مذکورہ طالب علم کا نام نہیں بتایا گیا، کلاس میں پروفیسر کی طرف سے مبینہ طور پر دہشت گرد کہنے پر وہ حیران رہ گیا۔ طالب علم نے زور دے کر کہا کہ یہ لطیفے قابل قبول نہیں ہیں۔ نہیں! آپ میرے مذہب کے بارے میں مذاق نہیں کر سکتے ..وہ بھی اتنے خوفناک انداز میں!
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: