உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Low Sodium Salt: کم سوڈیم والے نمک کے صحت پر کیا پڑتے ہیں اثرات؟ جانیے فوائد و نقصانات

    تحقیق میں کہا گیا کہ نمک کے متبادل غذا میں سوڈیم کی مقدار کو کم کر سکتے ہیں

    تحقیق میں کہا گیا کہ نمک کے متبادل غذا میں سوڈیم کی مقدار کو کم کر سکتے ہیں

    Low Sodium Salt: رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کم سوڈیم والے نمک کے استعمال کے اثرات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے، خاص طور پر خون میں پوٹاشیم کی زیادہ مقدار سے صحت پر اثر پڑسکتا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Hyderabad | Telipara Tea Garden D | Mumbai | china
    • Share this:
      Low Sodium Salt: کوئی بھی کھانا نمک کے بغیر ذائقہ دار نہیں ہوتا۔ کسی بھی انوکھی ڈش میں مہنگے ترین مسالہ جات استعمال کریں اور اس میں نمک نہ تو اس کا ذائقہ ہی پھیکا پڑجاتا ہے۔ لیکن ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ چیزوں کو ذائقہ دار بنانے کے لیے بازاری اشیا میں زائد نمک کا استعمال کیا جاتا ہے، جس میں سوڈیم (Sodium) کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے صحت پر اثر پڑسکتا ہے۔

      ماہرین صحت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نمک کی ضرورت سے زیادہ مقدار استعمال نہ کی جائے اور اس کے استعمال کو باقاعدہ بنایا جائے۔ آپ کے روزمرہ کے کھانوں، ڈبہ بند اشیا، اچار اور دیگر محفوظ شدہ غذائیں جیسے پنیر اور ڈپس وغیرہ میں نمک میں اضافہ صحت کے لیے اچھا نہیں ہے۔ کئی بار نمک کا زیادہ استعمال ہائی بلڈ پریشر اور ہائیپر ٹینشن کا باعث بن سکتا ہے۔

      قبل از وقت اموات کا خطرہ:

      یورپی ہارٹ جرنل (European Heart Journal) میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں محققین نے بتایا ہے کہ کھانوں میں زائد نمک شامل کرنے سے قبل از وقت اموات کا خطرہ اور متوقع عمر میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ اس تحقیق کا عنوان ’کھانے میں نمک کا اضافہ اور قبل از وقت اموات کا خطرہ‘ ہے۔ تاہم یہ سوال اب بھی کیا جاتا ہے کہ اگر آپ کو ہائی بلڈ پریشر ہے تو کیا آپ کو کم سوڈیم والے نمک (Low Sodium Salt) کے بدلے عام نمک کو تبدیل کرنا چاہیے؟

      سوڈیم کی مقدار کو کم کیسے کیا جائے؟

      مذکورہ تحقیق میں کئی باتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ حالیہ مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پوٹاشیم کلورائیڈ پر مشتمل نمک (Potassium-Enriched Salt) کے متبادل سے سوڈیم کی مقدار کو کم کیا جاسکتا ہے۔ جس کی وجہ سے بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ پوٹاشیم کلورائیڈ پر مشتمل نمک کو کم سوڈیم والا نمک بھی کہا جاتا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      Swiggy, Zomato جیسے ایپ سے آن لائن کھانا منگانا 60 فیصد تک مہنگا؟ سروے سے بڑا انکشاف

      ریاستہائے متحدہ امریکہ میں جانس ہاپکنز بلومبرگ اسکول آف پبلک ہیلتھ (Johns Hopkins Bloomberg School of Public Health) کے محققین نے ’پوٹاشیم کی کم مقدار والے نمک کے متبادل‘ کے عنوان سے تحقیق کی ہے۔ مذکورہ تحقیق کے دوران کئی ایسے شواہد ملے ہیں جس میں پوٹاشیم کے ساتھ سوڈیم کلورائیڈ کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ محققین نے یہ بھی واضح کیا کہ بعض صورتوں میں کم سوڈیم والے نمک کا استعمال دل کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر ایسے لوگوں میں جن میں گردے کی دائمی بیماری ہے۔

      مزید تحقیق کی ضرورت:

      یہ بھی پڑھیں: 

      Spending Time on Gadgets: الیکٹرانک گیجٹس پر زیادہ وقت گزارنا آپ کی زندگی کیلئے بن سکتا ہے خطرہ! تحقیق میں ہوا انکشاف



      رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کم سوڈیم والے نمک کے استعمال کے اثرات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے، خاص طور پر خون میں پوٹاشیم کی زیادہ مقدار سے صحت پر اثر پڑسکتا ہے۔ جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ”سیرم پوٹاشیم کی سطح پر پوٹاشیم سے بھرپور نمک کے متبادل کے اثرات اور ہائپر کلیمیا کے خطرے پر اضافی تجرباتی تحقیق کی ضرورت ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: