உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    این ایم سی کا ڈاکٹروں کو حکم، صرف یوٹیوب دیکھ کر نہ کریں ہیئر ٹرانسپلانٹ

    این ایم سی کا ڈاکٹروں کو حکم، صرف یوٹیوب دیکھ کر نہ کریں ہیئر ٹرانسپلانٹ

    این ایم سی کا ڈاکٹروں کو حکم، صرف یوٹیوب دیکھ کر نہ کریں ہیئر ٹرانسپلانٹ

    Hair Transplant: این ایم سی نے کہا کہ سبھی وسائل سے لیس اسپتال میں ہی اس طرح کی سرجری ہونی چاہیے۔ وہاں اینتھیسیا کی بھی سہولت ہو۔ مریض کی اجازت لینی ضروری ہو اور سرجری کا ریکارڈ بھی ویسے ہی رکھا جانا چاہیے، جیسے دیگر طرح کی سرجری کے کیسیز میں رکھا جاتا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Hyderabad | Mumbai
    • Share this:
      Hair Transplant: حکومت نے ہیئر ٹرانسپلانٹ جیسی سرجری کو لے کر سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ 20 ستمبر کو نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) کی جانب سے جاری کی گئی گائیڈلائنس کے مطابق ڈاکٹروں سے کہا گیا ہے کہ وہ بنا مناسب ٹریننگ کے ہیئر ٹرانسپلانٹ جیسی سرجری نہ کریں۔ یوٹیوب یا ورکشاپ دیکھ لینا بھی مناسب ٹریننگ نہیں ہے۔ ساتھ ہی مریضوں سے کہا گیا ہے کہ وہ پہلے ڈاکٹر کے بارے میں جانچ پڑتال کریں، تبھی ہیئر ٹرانسپلانٹ کرائیں۔

      بنا مناسب ٹریننگ کے سرجری خطرناک
      ایستھیٹک سرجری اور ہیئر ٹرانسپلانٹ کے طریقہ کار کے بارے میں رہنما خطوط جاری کرتے ہوئے، میڈیکل کمیشن نے مشورہ دیا ہے کہ اس طرح کے طبی طریقہ کار کے لیے بہتر انتظام اور وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ بالوں کے ٹرانسپلانٹ کی سرجری کے بعد کی دیکھ بھال کے لیے تربیت یافتہ عملے اور خصوصی آلات کی دستیابی پر بھی زور دیا گیا ہے۔

      این ایم سی نے کہا کہ ہیئر ٹرانسپلانٹ کے لئے ڈاکٹروں کو مناسب ٹریننگ ضروری ہے۔ دوسرے، مریض کا انتخاب بھی اہم ہے۔ ہر مریض کے بال نہیں اُگائے جاسکتے۔ ساتھ ہی مختلف طرح کے ٹسٹ ضروری ہیں۔ سرجری کے بعد کی دیکھ ریکھ بھی اہم ہے۔ اس لئے ہر کوئی سرجن یہ کام نہیں کرسکتا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ایک شخص نے 3 انچ قد بڑھانے کے چکر میں لیا60 لاکھ کا لون!5سال تک ادا کرنی ہونگی اقساط

      یہ بھی پڑھیں:
      سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال دماغی صحت کیلئے 'سلو پوائزن' ہے، تحقیق میں بڑا انکشاف

      کئی ڈاکٹر اس موضوع پر کسی ورکشاپ میں حصہ لے کر یا یوٹیوب چینل پر دیکھ کر سرجری کرنے لگتے ہیں۔ اس کے خطرناک سائیڈ ایفکیٹ ہوسکتے ہیں۔ این ایم سی نے کہا کہ سبھی وسائل سے لیس اسپتال میں ہی اس طرح کی سرجری ہونی چاہیے۔ وہاں اینتھیسیا کی بھی سہولت ہو۔ مریض کی اجازت لینی ضروری ہو اور سرجری کا ریکارڈ بھی ویسے ہی رکھا جانا چاہیے، جیسے دیگر طرح کی سرجری کے کیسیز میں رکھا جاتا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: