உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    OMG: بہار میں چل رہا تھا فرضی تھانہ، چوکیدار سے لے کر داروغہ تک سبھی فرضی

    OMG: بہار میں چل رہا تھا فرضی تھانہ، چوکیدار سے لے کر داروغہ تک سبھی فرضی

    OMG: بہار میں چل رہا تھا فرضی تھانہ، چوکیدار سے لے کر داروغہ تک سبھی فرضی

    Fake Police Station in Banka : بہار میں فرضی پولیس والے تو پکڑے جاتے رہے ہیں، مگر اس مرتبہ پورا کا پورا تھانہ ہی فرضی پایا گیا ہے ۔ یہ فرضی تھانہ گزشتہ آٹھ مہینے سے علاقہ میں سرگرم تھا اور لوگوں سے پیسے اینٹھ رہا تھا ۔

    • Share this:
      بانکا : بہار میں فرضی پولیس والے تو پکڑے جاتے رہے ہیں، مگر اس مرتبہ پورا کا پورا تھانہ ہی فرضی پایا گیا ہے ۔ یہ فرضی تھانہ گزشتہ آٹھ مہینے سے علاقہ میں سرگرم تھا اور لوگوں سے پیسے اینٹھ رہا تھا ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ ضلع دفتر میں چل رہے اس فرضی تھانہ کی کسی کو کانوں کان خبر نہیں تھی ۔ بتادیں کہ یہ فرضی تھانہ بانکا شہر کے ایک نجی گیسٹ ہاوس میں چل رہا تھا ۔

      اس سلسلہ میں بانکا تھانہ انچارج نے بتایا کہ ایک خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کسی مجرم کی گرفتاری کیلئے پولیس بلائی گئی تھی ۔ جب وہ چھاپہ ماری کرکے تھانہ لوٹ رہی تھی تو اسی وقت بانکا گیسٹ ہاوس کے سامنے سڑک پر ایک انجان خاتون اور نوجوان پولیس ڈریس میں نظر آئے ۔ شک کی بنیاد پر جب ان سے پوچھ گچھ کی گئی تو فرضی تھانہ کا معاملہ سامنے آیا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: Indian Railway: ایک سال کے بچے کا بھی لگے گا ٹکٹ؟ جانئے وزارت ریل کا اس پر جواب


      تھانہ انجارچ نے بتایا کہ گرفتار خاتون انیتا خود کو داروغہ بتا رہی تھی اور وہ بہار پولیس کے فل ڈریس اپ میں تھی ۔ اس کے پاس سے ایک غیر قانونی پستول بھی برآمد ہوئی ہے جبکہ پکڑے گئے دوسرے ملزم کا نام آکاش کمار ہے ۔ وہ خود کو تھانہ کا چوکیدار بتا رہا تھا ۔ گرفتار انیتا بانکا ضلع کے پھلی ڈومر کے دودھ گھٹیا کی رہنے والی ہے ۔ اس نے بتایا کہ پھلی ڈومر کے بھولا یادو نے داروغہ میں بھرتی کرکے بانکا کے اس دفتر میں تعینات کیا تھا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: روہنگیا پناہ گزینوں کونہیں ملیں گے گھر،وزارت داخلہ نے خبروں کو بتایا غلط


      اپنے کام کے بارے میں انیتا نے بتایا کہ جہاں کہیں بھی سرکاری رہائش گاہ وغیرہ بنتے تھے، وہاں جانچ کرنے کیلئے وہ جاتی تھی ۔ وہیں گرفتار آکاش کے مطابق بھولا یادو کو 70 ہزار روپے دے کر وہ فرضی تھانہ میں چوکیدار کی نوکری کررہا تھا ۔ ایس ایچ او کے مطابق اس دفتر میں بحال سبھی ملازمین کو پولیس وردی اور غیر قانونی پستول دستیاب کرانے میں پھلی ڈومر کے بھولا یادو کا نام سرغنہ کے طور پر سامنے آرہا ہے ۔

      اس معاملہ کی تصدیق کرتے ہوئے ایس پی ڈاکٹر ستیہ پرکاش نے بتایا کہ جعل سازوں کا یہ گروپ پٹنہ اسکارٹ ٹیم کے نام سے بانکا میں ایک دفتر چلاتا تھا ۔ یہاں سے پولیس وردی میں کچھ مشتبہ لوگوں کی گرفتاری ہوئی ہے ۔ فرضی دفتر سے کچھ کاغذات کے ساتھ ہی بہار پولیس کی وردی، بیچ سمیت دیگر سامان ضبط کئے گئے ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: