உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    چھوٹی سی عمر میں آپ کے بچے کو ہوگیا پیار؟پتہ چلنے پر والدین بھول کر بھی نہ کریں یہ غلطیاں!

    چھوٹی سی عمر میں آپ کے بچے کو ہوگیا پیار؟پتہ چلنے پر والدین بھول کر بھی نہ کریں یہ غلطیاں! (تصویر:iStock)

    چھوٹی سی عمر میں آپ کے بچے کو ہوگیا پیار؟پتہ چلنے پر والدین بھول کر بھی نہ کریں یہ غلطیاں! (تصویر:iStock)

    نوجوانی ایک ایسا مرحلہ ہوتا ہے جب بچے والدین سے الگ ہو کر اپنی آزادی کو محسوس کرنا چاہتے ہیں۔ اس دوران بچے اپنے نئے دوست بناتے ہیں اور نئی نئی چیزوں کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Hyderabad | Bangalore [Bangalore] | Kolkata | Lucknow
    • Share this:
      کچھ سال پہلے بنگلورو میں ایک کیس سامنے آیا تھا جہاں 15 سال کی ایک لڑکی نے اپنے 19 سال کے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر والد کا مرڈر کردیا۔ قتل کی وجہ پوچھنے پر لڑکی نے بتایا کہ اس کے والد کو ان کی یہ رومانوی ریلیشن شپ بالکل بھی پسند نہیں تھی۔ لڑکی نے بتایا جب والد کو ان کے تعلقات کے بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے اسے بہت مارا اور اس کا فون بھی چھین لیا۔ ایسے میں اپنی آزادی واپس پانے کے لئے لڑکی اور اس کے بوائے فرینڈ نے مل کر والد کا قتل کردیا۔ ایسے بھی کئی کیسیز سامنے آتے رہتے ہیں کہ پینرینٹس کی پابندیوں کی وجہ سے ٹین ایجر کپل خودکشی جیسا قدم تک اٹھالیتے ہیں۔
      ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر بچے رومانوی رشتے میں ہیں تو والدین کو اس صورتحال کا سامنا کس طرح سے کرنا چاہیے؟

      عام طور پر ہندوستانی خاندانوں میں جب والدین کو بچے کے رشتے کا علم ہوتا ہے تو وہ اپنے غصے سے صورتحال کو سدھارنے کے بجائے مزید خراب کردیتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ آپ کے بچے بڑے ہو رہے ہیں اور اس عمر میں آپ انہیں ڈرا دھمکا کر اپنی بات نہیں دلوا سکتے۔

      نوجوانی وہ مرحلہ ہے جس میں بچوں کے جسم میں بہت سی تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس صورت حال میں کسی کی طرف متوجہ ہونا کافی عام بات ہے۔ ایسے میں والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچے کو سمجھیں اور اسے پیار سے چیزیں سمجھائیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ آپ کے ساتھ کھل کر ہر بات شیئر کرے، تو یہ ضروری ہے کہ آپ اسے یہ احساس دلائیں کہ آپ دونوں ایک ہی ٹیم ہیں۔ اس کے لیے آپ کو چند کام کرنے ہوں گے۔ آئیے جانتے ہیں انہی کے بارے میں۔

      جب آپ اپنے بچے سے والدین کے طور پر بات کرتے ہیں تو اس صورت حال میں آپ کا بچہ آپ سے بہت سی باتیں چھپا سکتا ہے۔ کئی بار جب والدین کو بچوں کے رشتے کا پتہ چلتا ہے تو ان کے ذہن میں بہت سی باتیں آتی ہیں جیسے کہ 'یہ سب کیسے ہوا، اس میں یہ سب کرنے کی ہمت کیسے ہوئی، لوگ کیا کہیں گے، تم نے ہماری خاندان کا نام بدنام کردیا۔'

      والدین کے دماغ مین اس طرح کے خیال آنے سے انہیں کافی غصہ آتا ہے۔ ایسے میں والدین اپنے بچوں کو کنٹرول کرنا شروع کردیتے ہیں اور اس کے لئے وہ بچوں کو کئی مرتبہ سزا بھی دیتے ہیں۔ اس طرح کے برتاؤ سے پیرینٹس کہیں نہ کہیں بچوں کو خود سے دور کردیتے ہیں جس سے بچہ مانباپ سے ہر کام چھپاکر کرنا شروع کردیتا ہے۔

      بچوں کے ریلیشن شپ سے کیسے کریں ڈیل
      ان سبھی معاملوں میں کئی مرتبہ بچوں کو والدین کے سپورٹ کی کافی زیادہ ضرورت ہوتی ہے لیکن ان کے غصے اور بے رُخی کی وجہ سے کہیں نہ کہیں بچے دوری بنالیتے ہیں۔
      بچوں کے ریلیشن کے بارے میں جاننے کے بعد آئیے جانتے ہیں آپ کیسے ان حالات کو سمجھ سکتے ہیں اور بچوں سے بات کرسکتے ہیں۔

      اپنے بچوں کے جذبات کو سمجھیں
      والدین ہونے کے ناطے آپ کے لیے بلوغت کے دوران بچے کے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ عام طور پر لوگ بلوغت کے دوران بچے کے جسم میں ہونے والی جسمانی تبدیلیوں کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں لیکن جذباتی تبدیلیوں سے لاعلم رہتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے بچے کے احساسات اور جذبات کو بھی سمجھیں۔

      اس دوران بچے کے دماغ اور دل میں کئی طرح کی تبدیلیاں ہورہی ہوتی ہیں۔ اس اسٹیج میں بچے کئی مرتبہ کافی زیادہ ایموشنل محسوس کرتے ہیں۔ نوجوانی ایک ایسا مرحلہ ہوتا ہے جب بچے والدین سے الگ ہو کر اپنی آزادی کو محسوس کرنا چاہتے ہیں۔ اس دوران بچے اپنے نئے دوست بناتے ہیں اور نئی نئی چیزوں کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس اسٹیج میں ضروری ہے کہ آپ انہیں والدین بن کر نہیں بلکہ ایک دوست کی طرح ٹریٹ کریں۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Relationship:نئے لوگوں سے دوستی کرنے کیلئے ایسے شروع کریں بات چیت، ہر کوئی ہوجائے گا متاثر

      یہ بھی پڑھیں:
      Relationship Tips: زیادہ تر مرد گرل فرینڈ اور بیوی سے بولتے ہیں یہ 5 جھوٹ

      آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آپ کے بچے کو ابھی بھی آپ کی ضرورت ہے، لیکن ایک الگ طریقے سے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: