اپنا ضلع منتخب کریں۔

    سنسنی خیز! ساتھ پڑھنے والی طالبہ کا پانچ دوستوں نے کیا جنسی استحصال، ویڈیو ریکارڈ کرکے وہاٹس ایپ پر کردیا وائرل

    سنسنی خیز! ساتھ پڑھنے والی طالبہ کا پانچ دوستوں نے کیا جنسی استحصال، ویڈیو ریکارڈ کرکے وہاٹس پر کردیا وائرل ۔ علامتی تصویر ۔

    سنسنی خیز! ساتھ پڑھنے والی طالبہ کا پانچ دوستوں نے کیا جنسی استحصال، ویڈیو ریکارڈ کرکے وہاٹس پر کردیا وائرل ۔ علامتی تصویر ۔

    Crime News: پولیس نے 17 سالہ لڑکی کا جنسی استحصال کرنے کے الزام میں اس کے ساتھ پڑھنے والے پانچ لڑکوں کو گرفتار کیا ہے ۔ پولیس نے منگل کو یہ جانکاری دی ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Telangana | Hyderabad
    • Share this:
      حیدرآباد: پولیس نے 17 سالہ لڑکی کا جنسی استحصال کرنے کے الزام میں اس کے ساتھ پڑھنے والے پانچ لڑکوں کو گرفتار کیا ہے ۔ پولیس نے منگل کو یہ جانکاری دی ۔ انہوں نے کہا کہ ملزم لڑکے دسویں اور نویں جماعت کے طلبہ ہیں، جنہوں نے اپنی ایک ہم جماعت لڑکی کا جنسی استحصال کیا اور اس حرکت کو موبائل فون میں ریکارڈ بھی کیا ۔ ملزم لڑکے اور متاثرہ لڑکی دوست ہیں ۔

      راچ کونڈا پولیس کمشنریٹ کی ایک ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ لڑکے اسکول کے وقت کے بعد اپنے علاقہ کے باہری علاقہ میں گھومتے تھے اور اپنے موبائل فون میں مبینہ طور پر فحش ویڈیوز دیکھتے تھے ۔ پولیس نے بتایا کہ اس سال اگست میں ملزمین متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ کی غیر موجودگی میں اس کے گھر گئے اور ڈرا دھمکا کر اس کا جنسی استحصال کیا ۔

      پولیس کے مطابق ان میں سے ایک نے موبائل فون میں جنسی استحصال کا ویڈیو ریکارڈ کیا ۔ دس دن بعد پھر دو لڑکے گئے اور اس کا استحصال کیا اور پھر اس کو موبائل میں ریکارڈ کرلیا ۔ پولیس نے بتایا کہ طالبہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر آنے کے بعد متاثرہ نے اہل خانہ کو آپ بیتی سنائی، جنہوں نے حیات نگر پولیس تھانہ میں ملزم لڑکوں کے خلاف شکایت درج کرائی ۔

      یہ بھی پڑھئے: کرایہ پر بوائے فرینڈ کی تلاش کررہی ہیں دادی، جس کے ساتھ بنائیں گے بولڈ ویڈیو، جانئے کیوں


      یہ بھی پڑھئے: جڑواں بہنوں نے ایک ہی مرد سے کی شادی، سونے، نہانے سے لے کر ٹوائلیٹ تک جاتی ہیں ایک ساتھ!



      پولیس نے کہا کہ شکایت کی بنیاد پر آئی پی سی سی ، پاکسو ایکٹ اور آئی ٹی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت معاملہ درج کرکے پانچوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ پولیس نے بتایا کہ آگے کی کارروائی کیلئے لڑکوں کو جوینائل جسٹس بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: