اپنا ضلع منتخب کریں۔

    اسلامی طرز تعمیر کی حامل عظیم الشان ’مودی مسجد‘ بنی لوگوں کی مرکزِ نگاہ! کیا یہ پی ایم مودی کے نام سے ہے؟

    مسجد میں 30,000 مربع فٹ کا رقبہ ہے جس کا کچھ حصہ خواتین کے لیے نماز پڑھنے کے لیے مختص ہے۔

    مسجد میں 30,000 مربع فٹ کا رقبہ ہے جس کا کچھ حصہ خواتین کے لیے نماز پڑھنے کے لیے مختص ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Hyderabad | Delhi | Jammu | Karnataka
    • Share this:
      سومیا کالسا

      ٹھیک ہے، یہ کہانی کہیں بھی گجرات کے انتخابات یا کسی اور انتخابات سے متعلق نہیں ہے۔ کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور میں ایک خوبصورت مسجد ہے اور اسے مودی مسجد کہا جاتا ہے۔ اس مسجد سے جڑے ’مودی‘ کا نام مودی عبدالغفور (Modi Abdul Gafoor) ہے۔ ایک امیر تاجر مودی عبدالغفور 1849 کے آس پاس بنگلورو کے ٹاسکر ٹاؤن میں رہتے تھے۔ اس وقت یہ علاقہ ملٹری اور سول اسٹیشن کے نام سے جانا جاتا تھا۔

      مودی ایک مشہور تاجر تھے جو فارس اور ہندوستان کے ساتھ چند دوسرے ممالک کے درمیان بڑے پیمانے پر تجارت کرتے تھے۔ بعد میں انھوں نے محسوس کیا کہ اس علاقے میں ایک مسجد ہونی چاہیے جس میں وہ رہتے تھے، اسی سوچ کے ساتھ انھوں نے ٹاسکر ٹاؤن امیں سنہ 1849 میں اس کی تعمیر کی تھی۔

      بعد میں مودی عبدالغفور کے خاندان نے بنگلورو کے مختلف علاقوں میں مزید مساجد تعمیر کیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی یاد میں ٹینری علاقے کے قریب ایک سڑک ہے جسے مودی روڈ کہتے ہیں۔ اس عرصے کے دوران پرانی مسجد کو نقصان پہنچا۔

      مسجد میں 30,000 مربع فٹ کا رقبہ ہے
      مسجد میں 30,000 مربع فٹ کا رقبہ ہے

      یہ بھی پڑھیں: 




      مسجد میں 30,000 مربع فٹ کا رقبہ ہے جس کا کچھ حصہ خواتین کے لیے نماز پڑھنے کے لیے مختص ہے۔ اس میں بنیادی سہولیات بھی ہیں۔ مسجد کی تعمیر کے لیے ہند اسلامی طرز تعمیر کو اپنایا گیا ہے۔

      علاقے کے ایک پھل فروش مدثر یاد کا کہنا ہے کہ 2015 میں پرانی عمارت کی جگہ نئی عمارت تعمیر کی گئی۔ جب نئی مسجد عوام کے لیے کھولی گئی، پی ایم مودی نے اپنی دوسری میعاد کے لیے حلف لیا۔ یہ محض اتفاق تھا۔ وہ مودی مسجد میں باقاعدگی سے آتے ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: