உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    82 سال کی عمر میں دو بیٹوں نے گھر سے نکالا، بیٹیوں نے بھی دیکھ بھال سے کردیا انکار، پڑھئے بے بس والد کی کہانی

    82 سال کی عمر میں دو بیٹوں نے گھر سے نکالا، بیٹیوں نے بھی دیکھ بھال سے کردیا انکار، پڑھئے بے بس والد کی کہانی

    82 سال کی عمر میں دو بیٹوں نے گھر سے نکالا، بیٹیوں نے بھی دیکھ بھال سے کردیا انکار، پڑھئے بے بس والد کی کہانی

    Lucknow News: لکھنو کے رکاب گنج کے رہنے والے رامیشور پرساد کے دو جوان بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، اس سب کے باوجود وہ پریشانیاں برداشت کررہے ہیں ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Uttar Pradesh | Lucknow | Kanpur
    • Share this:
      لکھنو : اترپردیش کی راجدھانی لکھنو میں ایک بے بس باپ 82 سال کی عمر میں در بہ در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے ۔ حالانکہ لکھنو کے رکاب گنج کے رہنے والے رامیشور پرساد کے دو جوان بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، اس سب کے باوجود وہ پریشانیاں برداشت کررہے ہیں ۔ دراصل بیمار ہوتے ہی بیٹوں نے ان کو گھر سے باہر نکال دیا اور وہ ہاتھوں میں یورین کا بیگ لے کر بے بس ادھر ادھر گھوم رہے ہیں ۔ وہیں بیٹیوں نے بھی ان کی خدمت کرنے سے منع کردیا ۔ ایسے میں ون اسٹاپ سینٹر نے ان کو سروجنی نگر میں واقع پبلک ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ پہنچادیا ہے ۔

      وہیں سن رسیدہ رامیشور پرساد کی آنکھوں میں اپنے کے ذریعہ ٹھکرائے جانے کا درد صاف جھلک رہا ہے ۔ اس درمیان ون اسٹاپ سینٹر کی انچارج ارچنا سنگھ نے اپنی ٹیم کے ساتھ رامیشور کو انصاف دلانے کیلئے ان کے بیٹوں کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی بات کہی ہے ۔


       

      یہ بھی پڑھئے: محبت کی شادی کا انجام؟ برقعہ پہننے سے انکار پر مسلمان شخص نے ہندو بیوی کاگلا کاٹ کرکیا قتل


      رامیشور پرساد بتاتے ہیں کہ ان کا مسالوں کو چھوٹا سا کاروبار تھا، لیکن اس کے بعد بھی جہاں پر بھی دو پیسے زیادہ ملتے تھے تو وہیں پر کام کرنے لگ جاتے تھے ۔ ساتھ ہی بتایا کہ وہ پہلے رکاب گنج میں رہتے تھے، لیکن بعد میں ٹکیت گنج آگئے۔ پچھلے 25 سال سے یہیں پر رہ رہے ہیں ۔ رامیشور پرساد کے مطابق ان کے دو بیٹے ہیں جو ڈرائیور ہیں ۔ جبکہ چار بیٹیاں ہیں اور ان سبھی کی شادی ہوچکی ہے ۔ ان کو بیٹے اکثر اذیت پہنچاتے رہتے ہیں ۔ بڑے بیٹے نے ان کے اوپر دو مرتبہ ہاتھ بھی اٹھایا ہے ۔ اس کے ساتھ دونوں بیٹے آپس میں ایک دوسرے کو والد کو رکھنے کیلئے کہتے رہتے ہیں ۔ دونوں بھائیوں کی آپس میں نہیں بنتی ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: پی ایف آئی پرپابندی کے بعد اویسی نےکہا- کالے قانون سے اب مسلم نوجوان کی ہوسکتی ہے گرفتاری


      رامیشور پرساد نے بتایا کہ بیچ میں جب ان کی طبیعت خراب ہوئی تو ان کی بیٹی نے بلرامپور اسپتال میں بھرتی کرایا دیا، لیکن وہ وہاں سے چلی گئی ۔ اس دوران یورین اور گیس پاس نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے یورین بیگ لگا دیا تھا ۔ اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد وہ یورین بیگ لے کر اپنے گھر پہنچے تو بیٹوں نے انہیں گھر میں داخل نہیں ہونے دیا ۔ انہیں مجبوری میں ایک پڑوسی کے گھر میں تقریبا تین دنوں تک رہنا پڑا ۔ اس کے بعد وہ اپنی بیٹیوں کے پاس گئے تو سبھی نے ان کی مدد کرنے سے منع کردیا ۔ اس کے بعد وہ یورین بیگ لے کر سڑک کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے تو یہ سب دیکھ ون اسٹاپ سینٹر کی ٹیم نے ان کو آشرم پہنچایا ۔ بتا دیں کہ پرساد کی بیوی کی کچھ سال پہلے موت ہوچکی ہے ۔

      رامیشور پرساد بتاتے ہیں کہ اپنے گھر سے زیادہ وہ اس آشرم میں راحت محسوس کررہے ہیں ۔ انہیں صحیح وقت پر کھانا پینا اور دوائی مل رہی ہے ۔ وہ اسٹاپ سینٹر کی انچارج ارچنا سنگھ نے بتایا کہ یہ معاملہ کافی سنگین ہے ۔ سماج میں سن رسیدہ افراد کے ساتھ اس طرح کا رویہ بالکل بی برداشت کرنے کے لائق نہیں ہے ۔ اس معاملہ کو لے کر مقدمہ درج کرایا جائے گا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: