اپنا ضلع منتخب کریں۔

    وارانسی: شادی پروگرام کے دوران ڈانس کرتے کرتے شخص کی ہوگئی موت، ڈاکٹر نے کہا: پوسٹ کووڈ افیکٹ

    وارانسی: شادی پروگرام کے دوران ڈانس کرتے کرتے شخص کی ہوگئی موت، ڈاکٹر نے کہا: پوسٹ کووڈ افیکٹ

    وارانسی: شادی پروگرام کے دوران ڈانس کرتے کرتے شخص کی ہوگئی موت، ڈاکٹر نے کہا: پوسٹ کووڈ افیکٹ

    UP News: موت کب کس کو دبوچ لے، کہا نہیں جاسکتا۔ دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا ایک ایسا ہی معاملہ اترپردیش کے وارانسی سے سامنے آیا ہے ۔ وارانسی میں شادی پروگرام کے دوران ڈانس کرتے کرتے ایک شخص کی موت ہوگئی ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Varanasi | Uttar Pradesh
    • Share this:
      وارانسی : موت کب کس کو دبوچ لے، کہا نہیں جاسکتا۔ دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا ایک ایسا ہی معاملہ اترپردیش کے وارانسی سے سامنے آیا ہے ۔ وارانسی میں شادی پروگرام کے دوران ڈانس کرتے کرتے ایک شخص کی موت ہوگئی ۔ ڈانس کرتے ہوئے ہوئی موت کے پانچ سکینڈ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر جم کر وائرل ہورہا ہے ۔ بتادیں کہ حال ہی میں وارانسی کا ایک ایسا ہی اور ویڈیو وائرل ہوا تھا، جس میں کار ڈرائیونگ کے دوران ایک شخص کی موت ہوئی تھی ۔

      جانکاری کے مطابق یہ ویڈیو وارانسی کے منڈوواڈیہہ تھانہ علاقہ کے ڈی ایل ڈبلیو علاقہ کا ہے ۔ یہاں بڑی پیئری علاقہ کے رہنے والے منوج وشوکرما اپنے بھتیجہ کی شادی میں گئے تھے ۔ شادی پروگرام کے دوران جب وہ ڈانس کررہے تھے، تبھی وہ گرے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی موت ہوگئی ۔ فورا انہیں اسپتال لے جایا گیا ، لیکن ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا ۔

      یہ بھی پڑھئے: گجرات : امت شاہ نے اے اے پی کو لے کر کیا بڑا دعوی، انتخابی نتائج سے پہلے بتائی من کی بات


      یہ بھی پڑھئے: 11 قصورواروں کی وقت سے پہلے رہائی کیوں؟ بلقیس بانو نے کھٹکھٹایا سپریم کورٹ کا دروازہ


      اس موت کے بعد شادی کے جشن کا پورا ماحول ماتم میں تبدیل ہوگیا ۔ پہلی نظر میں ایسا لگ رہا ہے کہ یہ موت کارڈیک اٹیک کی وجہ سے ہوئی ہے، لیکن اس موت کی اصل وجہ کیا ہے یہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی واضح ہوسکے گی ۔ بتادیں کہ ملک کے الگ الگ حصوں ایسے معاملات لگاتار سامنے آرہے ہیں ۔

      بی ایچ یو کے پروفیسر گیانیشور چوبے نے بتایا کہ کورونا کے بعد کارڈیک اٹیک کے معاملات اچانک بڑھے ہیں ۔ کئی سارے لوگوں کی کارڈیو مسلز بھی کام نہیں کررہے ہیں ، جس کی وجہ سے اس طرح کے معاملات سامنے آرہے ہیں ۔ خاص کر 35 سے 42 سال کے لوگوں میں اس کا زیادہ خطرہ ہے ۔ اس پر ایک تفصیلی مضمون بھی لکھا گیا ہے اور سرکار کو بھی خط لکھا گیا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: