உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Eid ul Azha 2022:حج کے دوران شیطان کو کیوں مارتے ہیں کنکریاں، کیا ہے یہ رکن اور کیسے ادا کیا جاتا ہے؟

    Youtube Video

    Eid ul Azha 2022: جن 3 جگہوں پر حضرت ابراہیم نے شیطان کو پتھر مارے تھے، وہیں پر تین ستون بنادئیے گئے ہیں۔ آج بھی انہیں تین ستوںوں کو شیطان مان کر اس پر پتھر مارے جاتے ہیں۔ اس رسم کو سنت ِ ابراہیمی بھی کہا جاتا ہے۔

    • Share this:
      Eid ul Azha 2022:حج (Hajj 2022) کے دوران بہت سے قوانین پر سختی سے عمل کرنا پڑتا ہے۔ مناسک حج میں بہت سی مناسک کی تکمیل کو بھی لازمی سمجھا جاتا ہے۔ ان میں شیطان کو کنکریاں مارنا بھی ایک مناسک ہے۔ عید الاضحی اسلامی کیلنڈر کے آخری مہینے ذوالحجہ 2022 کی دسویں تاریخ کو منائی جاتی ہے۔ اسے بقرہ عید 2022 بھی کہا جاتا ہے۔ اس بار عیدالاضحی کا تہوار 10 جولائی بروز اتوار کو منایا جائے گا۔ اس دن مناسک حج کے دوران شیطان کو کنکریاں مارنے کی رسم مکمل کی جاتی ہے۔ مزید جانئے کہ یہ روایت کیا ہے اور کیوں ادا کی جاتی ہے…

      جب پیغمبر ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا لیا فیصلہ
      اسلامی عقائد کے مطابق ایک بار خواب میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنی سب سے پیاری چیز قربان کرنے کو کہا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے اسماعیل سے سب سے زیادہ پیار کرتے تھے۔ اللہ کے حکم پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت حضرت ابراہیمؑ کی عمر تقریباً 86 سال تھی اور اسمعیٰلؑ ان کے اکلوتے بیٹے تھے۔

      جب شیطان نے ابراہیمؑ کا راستہ روکا
      جب حضرت ابراہیمؑ اپنے بیٹے کو قربان کرنے جارہے تھے تو راستے میں اُنہیں شیطان ملا۔ شیطان نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے فرض سے منحرف کرنے کی بہت کوشش کی اور کہا کہ اگر تم اس عمر میں اپنے بیٹے کو قربان کر دوگے تو بڑھاپے میں تمہاری دیکھ بھال کون کرے گا؟ شیطان کی بات سن کر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ارادہ نہ بدلا اور پتھر مارکر شیطان کو بھگا دیا۔

      قربانی کے وقت آنکھوں پر باندھی پٹی
      حضرت ابراہیم علیہ السلام ہر حال میں اللہ کے حکم کو پورا کرنا چاہتے تھے، بیٹے کی قربانی دیتے وقت ہاتھ نہ رکیں، اس لیے آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔ جیسے ہی ابراہیمؑ نے قربانی کے لیے ہاتھ چلائے اور پھر آنکھوں پر پٹی ہٹاکر دیکھا تو آپ کے بیٹے حضرت اسماعیل محفوظ تھے اور ان کی جگہ ایک دنبہ (بھیڑ) تھا۔ یہ دیکھ کر ابراہیمؑ نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ تب سے قربانی کا سلسلہ شروع ہوا۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Hajj 2022: منافرت اوربغض سے اجتناب اسلامی تعلیمات کا خاصہ: خطبہ حج میں ڈاکٹر محمد کا خطاب

      یہ بھی پڑھیں:
      Hajj 2022: مصری خاندان غلاف کعبہ کی تیاری میں سب سے آگے، صدیوں پرانی روایات کو زندہ۔۔۔۔۔

      اس سنت کو کہا جاتا ہے سنت ِ ابراہیمی
      جن 3 جگہوں پر حضرت ابراہیم نے شیطان کو پتھر مارے تھے، وہیں پر تین ستون بنادئیے گئے ہیں۔ آج بھی انہیں تین ستوںوں کو شیطان مان کر اس پر پتھر مارے جاتے ہیں۔ اس رسم کو سنت ِ ابراہیمی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ رسم اسلامی کیلنڈر کے 12ویں مہینے ذوالحجہ کی 10 سے 12 تاریخ کو کی جاتی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: