உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Rakesh Tiwari: عام بول چال میں شاعری بنی کمائی کا ذریعہ! فل ٹائم شاعر راکیش تیواری کون ہے؟

    جب وہ 2013 میں دی ہائیو ممبئی میں پرفارم کر رہے تھے تو سامعین صرف 8 سے 9 لوگ ہوتے تھے

    جب وہ 2013 میں دی ہائیو ممبئی میں پرفارم کر رہے تھے تو سامعین صرف 8 سے 9 لوگ ہوتے تھے

    راکیش تیواری نے بتایا کہ جب بھی میں اس پر کوئی ایپی سوڈ پیش کرتا ہوں، تو مجھے معاوضہ ملتا ہے۔ آج میرے پاس برانڈ ہے اور میں ویب سیریز کے لیے لکھتا ہوں۔ یہ ایک اچھا احساس اور بہترین ذریعہ ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Hyderabad | Kolkata [Calcutta] | Maharashtra | Bihar
    • Share this:
      زبانوں کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ کوئی بھی زبان اپنے جاننے، پڑھنے اور لکھنے والوں سے جانی جاتی ہے۔ اسی لیے عام بول چال میں کی جانے والی شاعری نے تمام رکاوٹیں توڑ دی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار 35 سالہ راکیش تیواری (Rakesh Tiwari) نے کیا ہے۔ وہ ہندی زبان کے شاعر ہیں۔ جنھوں نے 2019 میں بغیر کسی پچھتاوے کے اپنی بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ (BPO) کی نوکری چھوڑ دی۔ تیواری کہتے ہیں کہ یہ صنف ہزاروں سال سے چلی آرہی ہے، جو کہ ہر ایک کو اپیل کرتی ہے۔

      شاعری کے ذریعہ اظہار خیال:

      راکیش تیواری کا کہنا ہے کہ خوشی، غم اور زندگی کے بیشتر لمحات کے بارے میں شاعری کے ذریعہ اظہار خیال کیا جاسکتا ہے، شاعری وہ واحد ذریعہ ہے، جس میں کوئی بھی شخص اپنے دلی جذبات اور احساسات کو بہتر سے بہتر انداز میں پیش کرسکتا ہے۔ انہوں نے شاعری پر مبنی پوڈ کاسٹ Millennial Kavi (JioSaavn) کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’عام الفاظ میں کی جانے والی شاعری نے شاعروں کو تجارتی طور پر کامیاب ہونے میں مدد کی ہے۔

      عالمی سطح پر اور ہندوستان میں عام الفاظ پر مبنی شاعری ریپ اور ہپ ہاپ جیسی شکلوں میں بھی پیش کی جارہی ہے، لیکن اس کی سادہ ترین شکل میں یہ وہ شاعری ہے جو روایتی یا کلاسیکی شاعری کے برعکس بہترین پڑھی جاتی ہے یا پیش کی جاتی ہے۔ تیواری کا کہنا ہے کہ اگرچہ ذاتی طور پر میں شاعری کی اس شکل کو زیادہ استعمال نہیں کرتا، لیکن تقریر یا کامیڈی کے دوران سامعین کی توانائی دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔

      90,000 سے زیادہ سبسکرائبرز

      راکیش تیواری نے بتایا کہ جب بھی میں اس پر کوئی ایپی سوڈ پیش کرتا ہوں، تو مجھے معاوضہ ملتا ہے۔ آج میرے پاس برانڈ ہے اور میں ویب سیریز کے لیے لکھتا ہوں۔ یہ ایک اچھا احساس اور بہترین ذریعہ ہے۔ واضح رہے کہ میلینل کاوی (جیو ساون) کے 90,000 سے زیادہ سبسکرائبرز ہیں۔ جو کہ ہر طرح کی شاعری کو پسند کرتے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Pakistan Floods:پاکستان میں سیلاب نے لی اب تک 937 افراد کی جان،قومی ایمرجنسی کا اعلان

      تیواری کہتے ہیں، ’’جب عام الفاظ پر مبنی شاعری کی ویڈیوز وائرل ہوئیں، تو اس فارم کو بہت سراہا گیا۔ لوگ یہ کہتے ہوئے تبصرے کریں گے کہ انہوں نے بھی ایسا ہی محسوس کیا۔ سستے ڈیٹا کی دستیابی نے ویڈیوز کو شیئر کرنا اور دیکھنا ممکن بنایا اور جلد ہی یہ شاعری پورے ملک کے نوجوانوں تک پہنچ گئی۔ ہر سال لاپتہ ہونے والے لوگوں کے مختلف کیسز پر نظم ’مسنگ‘ (Missing) پڑھنے کی ان کی 4 منٹ کی ویڈیو یوٹیوب پر 6 لاکھ سے زیادہ بار دیکھی جاچکی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Ukraine War:زاپوریزیا پلانٹ پر روسی حملوں کے بعد ایٹمی حادثے کی دہلیز پر کھڑا یوروپ، قبضہ چھوڑنے کو تیار نہیں روس

      تیواری نے دی کمیون انڈیا اور اس کے بانیوں روشن عباس اور گورو کپور کو کہانی سنانے کے ویڈیو فارمیٹ اور ان ایریز پوئٹری کے سمر سنگھ کو اس شعری شکل کو فروغ دینے کا سہرا دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب وہ 2013 میں دی ہائیو ممبئی میں پرفارم کر رہے تھے تو سامعین صرف 8 سے 9 لوگ ہوتے تھے، جن کے سامنے پرفارم کرنا ہوتا تھا لیکن پھر چیزیں بدل گئیں۔ ویڈیوز بنا کر یوٹیوب پر شیئر کی گئیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: