کشمیر میں سیکورٹی فورسیز کو بڑی کامیابی ، دہشت گرد ذاکر موسی کے پورے گروہ کا کیا صفایا

دلباغ سنگھ کے مطابق اے جی ایچ کا صفایا ہوگیا ہے ، لیکن کچھ عناصر ابھی بھی یہاں سرگرم ہیں ۔ وہ اچانک سامنے آتے ہیں اور دہشت گردوں کے ساتھ مل جاتے ہیں ۔

Oct 23, 2019 10:45 PM IST | Updated on: Oct 23, 2019 10:45 PM IST
کشمیر میں سیکورٹی فورسیز کو بڑی کامیابی ، دہشت گرد ذاکر موسی کے پورے گروہ کا کیا صفایا

کشمیر میں سیکورٹی فورسیز کو بڑی کامیابی ، دہشت گرد ذاکر موسی کے پورے گروہ کا کیا صفایا

جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے بدھ کو کہا کہ دہشت گرد تنظیم انصار غزۃ الہند ( اے جی ایچ ) کے سرغنہ حمید لون اور دو دیگر دہشت گردوں کے وادی میں مارے جانے کے بعد القاعدہ کی اس معاون تنظیم کا کشمیر سے صفایا ہوگیا ہے ۔ کشمیر میں اے جی ایچ کے بانی دہشت گرد ذاکر موسی کے بعد لون عرف حامد للہاری نے اس تنظیم کی ذمہ داری سنبھالی تھی ۔

مقامی پولیس سے خفیہ اطلاع ملنے کے بعد جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے ترال علاقہ میں تینوں دہشت گردوں کے مارے جانے کے ایک دن بعد ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے ایک پریس کانفرنس کو خطاب کیا ۔ منگل کو انکاونٹر میں لون کے علاوہ نوید احمد ٹاک اور جنید راشد بھٹ بھی مار گرایا گیا تھا ۔

Loading...

دلباغ سنگھ نے کہا کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق مارے گئے سبھی دہشت گرد ذاکر موسی کی تنظیم سے وابستہ تھے اور سیکورٹی تنصیابت پر حملہ اور دیگر شہریوں پر مظالم کے کئی معاملات سمیت دہشت گردی سے وابستہ واقعات میں ملوث ہونے کی وجہ سے فرار تھے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی مخالف مہم نے اے جی ایچ کو زبردست جھٹکا دیا ہے ۔ سنگھ نے کہا کہ یہ دہشت گرد تنظیم پاکستان میں واقع دہشت گرد تنظیم جیش محمد کے ساتھ بھی مل کر کام کررہی تھی ۔

انہوں نے کہا کہ اے جی ایچ کا صفایا ہوگیا ہے ، لیکن کچھ عناصر ابھی بھی یہاں سرگرم ہیں ۔ وہ اچانک سامنے آتے ہیں اور دہشت گردوں کے ساتھ مل جاتے ہیں ، لیکن فی الحال کشمیر سے انصار غزوۃ الہند تنظیم کا صفایا ہوگیا ہے ۔

دلباغ سنگھ نے کہا کہ جے ای ایم کشمیر میں ہر ایک دہشت گرد تنظیم کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ جیش محمد اور لشکر طیبہ کو پاکستان سے ہدایات ملتی ہیں کہ کون ان کا نشانہ ہے اور کس سطح تک اور کس قسم کے تشدد کو وادی میں بھڑکانا ہے ۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا جے ای ایم کے ساتھ اے جی ایچ کے رابطہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ پاکستان کے ہاتھوں کنٹرول ہوتا تھا ، ڈی جی پی نے کہا کہ اس سے تو ایسے ہی اشارے ملتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا مشکل ہے ، لیکن میں یہی کہوں گا کہ مقامی سح پر یہ نظر آتا ہے اور پاکستان کے ساتھ روابط کے اشارے ملتے ہیں ، جس کو اب تک پاکستان کے ذریعہ براہ راست آپریٹ کیا جاتا رہا ہے ۔

پولیس سربراہ نے کہا کہ جموں و کشمیر سے خصوصی درجہ ہٹائے جانے کے بعد سے کافی تعداد میں دہشت گردوں نے دراندازی کی ہے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پانچ اگست کے بعد آئے دہشت گردوں کی تعداد بتا پانا مشکل ہے ، لیکن میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ ان کی تعداد کافی ہے ۔ ڈی جی پی نے کہا کہ شمالی کشمیر کے ساتھ ساتھ جنوبی کشمیر میں کئی مقامات پر ان کی موجودگی کا پتہ چلا ہے ، جس کے پیش نظر ہم کہہ سکتے ہیں ان کی تعداد کافی ہے ۔ تاہم یہ اتنی زیادہ بھی نہیں ہے ، جس کی وجہ سے ہمیں بہت زیادہ فکر مند ہونا چاہئے ۔

Loading...