آرٹیکل 370 کی منسوخی : پاکستان کی ایک اورحماقت، عالمی سطح پرپھرایک بار ہوسکتی ہے مایوسی

اب پاکستان نے اقوام متحدہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں ہندوستان پرکشمیر میں تشدد اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان نے خط میں سابق کانگریس صدرراہل گاندھی کا نام بھی اپنے دعوؤں کو ثابت کرنے کے لیے لکھاہے

Aug 28, 2019 08:51 AM IST | Updated on: Aug 28, 2019 08:51 AM IST
آرٹیکل 370 کی منسوخی : پاکستان کی ایک اورحماقت، عالمی سطح پرپھرایک بار ہوسکتی ہے مایوسی

جب سے جموں و کشمیرسے آرٹیکل 370 کوہٹادیا گیاہے۔ تب سے ہی پاکستان بین الاقوامی اداروں میں ہندوستان کو گھیرنے کی مسلسل کوشش کررہا ہے۔ تاہم، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے لیکرجی 7 تک کے تمام بڑے فورمزمیں آرٹیکل 370 کی منسوخی کوہندوستان کا داخلی معاملہ قرار دے کر مسترد کردیا گیا ہے۔ اب پاکستان نے اقوام متحدہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں ہندوستان پرکشمیر میں تشدد اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان نے خط میں سابق کانگریس صدرراہل گاندھی کا نام بھی اپنے دعوؤں کو ثابت کرنے کے لیے لکھاہے۔۔

خط میں راہل گاندھی کے نام کا ذکر

Loading...

پاکستان کے اس خط میں حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے دعوؤں کوسچ ثابت کرنے کےلیےکانگریس صدرراہل گاندھی کے بیان کاحوالہ دیاہے۔اس خط میں پاکستان نے الزام لگایا ہے کہ کشمیر میں معمول کے متعلق ہندوستان کے دعوے جھوٹے ہیں۔ پاکستان نے اپنے دعوؤں کی حمایت میں، راہل گاندھی کے ایک بیان کا ذکر کیا ہے۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ ہندوستانی رہنما راہل گاندھی نے بھی قبول کیا ہے کہ 'لوگ کشمیر میں مر رہے ہیں' اور وہاں صورتحال معمول کے مطابق نہیں ہے۔آپ کوبتادیں کہ گزشتہ دنوں راہل گاندھی اپوزیشن وفد کے ساتھ جموں کشمیردورے پرگئےتھے۔ لیکن انہیں سرینگر ایئرپورٹ پر ہی روک دیاگیاتھا۔ جس کے بعد راہل گاندھی نے بیان دیاتھاکہ جموں کشمیرمیں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہاہے

 پاکستان نے اقوام متحدہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں ہندوستان پرکشمیر میں تشدد اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔(تصویر:نیوز18ہندی)۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں ہندوستان پرکشمیر میں تشدد اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔(تصویر:نیوز18ہندی)۔

کشمیری رہنماؤں کا بھی ذکر

وہیں اس خط میں جموں کشمیرکی سابق وزیراعلیٰ اور پی ڈی پی چیف محبوبہ مفتی سمیت این سی لیڈرعمر عبداللہ کابھی نام شامل ہے۔حبوبہ کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ ان رہنماؤں نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کو کشمیر کے لئے 'یوم سیاہ' قرار دیا ہے۔ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ کشمیر میں ان دونوں رہنماؤں سمیت تقریباً 230000 افراد کو بھی حراست میں لیا گیاہے۔

پاکستان نے اقوام متحدہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں ہندوستان پرکشمیر میں تشدد اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔(تصویر:نیوز18ہندی)۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں ہندوستان پرکشمیر میں تشدد اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔(تصویر:نیوز18ہندی)۔

راہل گاندھی کے بیان پرایک نظر

ہم آپ کو بتادیں کہ 10 اگست کو راہل گاندھی، کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی میٹنگ سے باہر آئے اور میڈیا سے گفتگو میں کرتے ہوئےانہوں نے بیان دیاتھا۔ راہل نے کہا تھا اب تک جو بھی معلومات موصول ہوئی ہیں۔ اس کے مطابق،وہاں (کشمیرمیں) غلط ہورہا ہے اور لوگوں کو ہلاک کیا جارہا ہے۔

جی 7 سے بھی پاکستان کومایوسی

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسئلہ کشمیر کے عالمی مسئلے پرپاکستان کومسلسل دھچکا لگا رہتا ہے۔ جی 7 میں ،وزیراعظم نریندرمودی نے واضح کیا کہ پاکستان کے ساتھ ان کے تمام معاملات دو طرفہ ہیں اور کسی بھی تیسرے ملک کواس میں مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں بتادیں کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے بعد، پاکستان اس بات پرزور دے رہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کی ہے۔ لیکن وزیر اعظم نریندرمودی اورامریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان اس بات چیت نے پاکستان کی تمام امیدوں کو ختم کردیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب پاکستان کومسئلہ کشمیر پرعالمی دھچکالگاہے۔ اس سے پہلے،جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی اور ریاست کو دو مرکزی زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کےمرکزی حکومت کے فیصلے کے خلاف، پاکستان نے دنیا کے بڑے ممالک سے اس معاملے پر ثالثی کی پیش کش کی تھی۔ لیکن چین کے علاوہ دنیا بھر کے تمام ممالک نے اس کو ثالثی سے انکار کرتے ہوئے اسے ہندوستان اورپاکستان کے دوطرفہ بات چیت کا مسئلہ قرار دیا۔ ایسے حالات میں وزیر اعظم مودی اور صدرڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان جی 7 سمٹ کے اسٹیج پرہونے والی گفتگو پاکستان کے لئے کسی بڑے جٹھکے سے کم نہیں ہے۔

Loading...