جموں وکشمیر:کرفیو میں نرمی کے دوران پتھراؤ کے واقعات۔ دوبارہ کرفیو نافذ۔ دیکھیں ویڈیو

مرکززیرانتظام جموں و کشمیر میں کرفیو کی پابندیوں کو نرم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فی الحال یہ نرمی عید الاضحیٰ کے لیے کی گئی ہے۔ سری نگر شہر کے بیشتر علاقوں میں سخت کنٹرول کو کم کر دیا گیا ہے تاہم فوج اور پولیس کو بدستور چوکس رکھا گیا ہے

Aug 11, 2019 05:58 PM IST | Updated on: Aug 11, 2019 06:16 PM IST
جموں وکشمیر:کرفیو میں نرمی کے دوران پتھراؤ کے واقعات۔ دوبارہ کرفیو نافذ۔ دیکھیں ویڈیو

جموں وکشمیر:کرفیو میں نرمی کے دوران پتھراؤ کے واقعات۔ دوبارہ کرفیو نافذ۔(تصویر:نیوز18 اردو)

عید کے موقع پرجموں و کشمیر میں پابندیوں میں نرمی کردی گئی تھی۔ لیکن سری نگر  کے پرانے شہر میں پتھراؤ کے واقعات کے بعد کرفیو کودوبارہ نافذ کردیاگیاہے۔ ریاستی پولیس کے حکام نے سری نگر میں سخت پابندیوں میں عید الاضحیٰ کے موقع پرنرمی کردی گئی تھی۔ لیکن بعض نوجوانوں نے پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں پرپتھراؤ کیا۔ جس کے بعد انتظامیہ نے کرفیو کو دوبارہ نافذکرنے کا فیصلہ کیاہے۔ واضح رہے کہ آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد سے جموں وکشمیر میں گزشتہ 7 دن سے کرفیو نفاذ کیاگیاتھا۔ اتناہی نہیں انٹرنیٹ اور فون خدمات کوبھی معطل کردیاگیاتھا۔

Loading...

مرکززیرانتظام جموں و کشمیر سمیت سری نگرشہر کے بیشترعلاقوں میں سخت کنٹرول کو کم کردیا گیاتھا۔ لیکن کرفیو کے دوبارہ نفاذ کے بعد فوج اور پولیس کو بدستور چوکس رکھا گیا ہے۔ جموں و کشمیر کی دستوری خومختاری کی حیثیت کو ختم کرنے سے قبل سخت کنٹرول نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ مجسٹریٹ شاہد چوہدری نے بتایا ہے کہ بینکوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے اور تقریباً ڈھائی سو اے ٹی ایم مشینوں کو فعال کر دیا گیا ہے تا کہ لوگ رقوم نکلوا کر عید کی خریداری کر سکیں۔

سری نگر میں مقامی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ بظاہر حالیہ ایام میں کوئی فائرنگ نہیں کی گئی لیکن لوگوں کی جانب سے سکیورٹی اہلکاروں پر وقفے وقفے سے پتھراؤ ضرور کیا گیا ہے۔اتوار کو سری نگر کی سڑکوں پر چند کاریں چلتی نظر آئی ہیں اور مختلف حصوں میں کم تعداد میں لوگ باہر نکلے ہیں۔ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت سخت پابندیوں کو نرم کرنے کے حوالے سے خاصی احتیاط برت رہی ہے۔ ایسے امکانات ہیں کہ مقامی شہری حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ شروع کرسکتے ہیں۔

اُدھر کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کشمیر میں پرتشدد واقعات کی اطلاعات موصول ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے مرنے کی بھی خبریں آئی ہیں۔ نئی دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گاندھی نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں صورت حال خراب ہے اور معاملات غلط سمت میں جا رہے ہیں۔

بندشوں میں جکڑا لال چوک سرینگر صفائی کرمچاری محمد شعبان کئی ایسی بندشیں پار کرکے صبح سویرے یہاں اپنے کام پر پہنچے ہیں۔آج تو بندشوں میں نرمی ہے لیکن شعبان تب بھی اپنے کام پرپہنچا جب یہاں سیکوریٹی دستوں کے سوا کوئی موجود نہیں تھا۔ سرینگر میونسپل کارپوریشن نے انھیں یہ جیکٹ تو دیے ہیں لیکن شعبان کہتے ہیں کرفیو پاس نہ ملنے کی وجہ سے انھیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شعبان کی طرح سرینگر کے مختلف علاقوں میں کئی صفائی کرمچاری ہیں جو کم و بیش ایسے ہی حالات سے نمٹ کر اپنا کام کرتے ہیں۔ جن علاقوں میں بندشیں سخت ہیں وہاں مشکلات بھی زیادہ ہیں۔ ان صفائی کرمچاریوں کا کہنا ہے کہ انھیں کرفیو پاس بھی نہیں دئے گئے ہیں۔

ادھر بربرشاہ اور ڈاون ٹاون سرینگر کے کئی علاقوں میں سڑکوں پر گندگی کے ڈھیر لگے ہیں۔ اس گندگی سے بد بُو پھیلی ہے اور بیماریاں پھوٹ پڑنے کا بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ صفائی کرمچاری کہتے ہیں کہ وہ اپنا کام تو کررہے ہیں لیکن جن گاڑیوں کو یہ کوڑا اٹھا کر ڈمپنگ سائٹ تک پہنچانا تھا وہ یہاں پہنچ نہیں پائی ہیں۔

سری نگر کے مختلف اسپتالوں میں داخل مریضوں کو بہت زیادہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ایل ڈی اسپتال کے بیماروں اور تیمارداروں کا کہنا ہے کہ وہ کھانے کی اشیاء نہیں خرید پا رہے ہیں کیوں کہ اے ٹی ایم سے کیش نہیں مل پا رہا ہے ۔انہوں نے انتظامیہ سے ان کے مسائل کی جانب توجہ دینے کی اپیل کی ہے ۔ راجوری میں عائد پابندیوں میں آج ڈھیل دی گئی ۔ لوگ بازاروں میں ضروری سامان کی خرید و فروخت کے لئے اپنے گھروں سے باہر آئے ۔ سڑکوں پر گاڑیاں بھی معمول کے مطابق نظرآئیں ۔تاہم جگہ جگہ حفاظتی دستے تعینات دکھے ۔عام لوگوں نے مرکزی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ فیصلہ ہمارے لئے سودمند ہے

Loading...