جموں وکشمیر: سرینگرکے تقریباً تمام علاقوں سے ہٹادی گئی بندشین، کئی جگہوں پردفعہ144 ابھی بھی نافذ

آج اتوار ہونے کے باوجود بھی سرینگر کے بازار صبح کے اوقات میں کھلے رہے۔ وہیں سڑکوں پر نجی گا ڑیوں کی آمد رفت بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ لوگ ضرورت زندگی کا سامان خریدتے نظر آئے۔

Oct 13, 2019 10:20 AM IST | Updated on: Oct 13, 2019 10:20 AM IST
جموں وکشمیر: سرینگرکے تقریباً تمام علاقوں سے  ہٹادی گئی بندشین، کئی جگہوں پردفعہ144 ابھی بھی نافذ

علامتی تصویر

جموں کشمیر سے دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سے کشمیر میں زندگی کا ہرشعبہ متاثر ہواہے ۔ تاہم کئی روز سے سرینگر سمیت وادی کے دیگر علاقوں میں صبح کے اوقات میں دکانیں کھل جاتی ہیں۔آج اتوار ہونے کے باوجود بھی سرینگر کے بازار صبح کے اوقات میں کھلے رہے۔ وہیں سڑکوں پر نجی گا ڑیوں کی آمد رفت بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ لوگ ضرورت زندگی کا سامان خریدتے نظر آئے۔سرینگرکے تقریباً تمام علاقوں سے بندشین ہٹا دی گئی ہے۔ تاہم امن و امان کی برقراری کے لئے کئی جگہوں پر دفعہ144 ابھی بھی نافذ ہے سرینگر کے حساس علاقوں میں سکیورٹی فورسس کی تعیناتی بدستور جاری ہے۔

وادی کشمیر میں گزشتہ زائد از دو ماہ سے موبائل فون اورانٹرنیٹ خدمات پر پابندی، جو ہنوزجاری ہے، کے دوران اہلیان وادی کو جن متنوع مصائب و گوناگوں مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ان مصائب ومشکلات سے نصف صدی قبل کے لوگ بھی دوچار نہیں تھے۔بتادیں کہ مرکزی حکومت کی طرف سے پانچ اگست کو جموں کشمیر کو حاصل خصوصی اختیارات کی منسوخی اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے اعلان کے ایک دن قبل ہی وادی میں تمام تر مواصلاتی نظام کو معطل کیا گیا جو ہنوز جاری ہے تاہم بعد ازاں لینڈ لائن سروس کو مرحلہ وار بحال کیا گیا۔

Loading...

علامتی تصویر علامتی تصویر

انتظامیہ نے لوگوں کی سہولیت کے لئے وادی کے بعض حصوں میں اگست کی 17 تاریخ کو لینڈ لائن سروس بحال کی تھی اور بعد ازاں 4 ستمبر تک تمام لینڈ لائنوں کو بحال کیا گیا تھا جن کی تعداد 50 ہزار بتائی گئی تھی۔مواصلاتی نظام پر پابندی کے ساتھ ہی اہلیان وادی کو نہ صرف بیرون ریاست وملک اپنے احباب و اقارب کے ساتھ رابطہ منقطع ہوا بلکہ وادی کے اندر بھی اپنے اقارب و دوستوں کے ساتھ تعلقات منقطع ہوگئے یہاں تک کہ ایمرجنسی سروسرز جیسے اسپتالوں، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز، پولیس وغیرہ کے ساتھ بھی رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں رہا جس کے نتیجے میں لوگوں کو طرح طرح کے مسائل و مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔مواصلاتی نظام پر عائد پابندی، جس کو وادی میں اب تک کی بدترین مواصلاتی پابندی تصور کیا جاتا ہے، نے سری نگر میں رہائش پذیر لوگوں کا جینا دو بھر کردیا، دور افتادہ علاقوں کے لوگوں کے مشکلات اس سے کئی گنا زیادہ تھے

کمیونی کیشن معطل ہونے سے یہاں لوگوں کوملک کی مختلف ریاستوں میں زیرتعلیم بچوں، تجارت یا کوئی دوسری نوکری کرنے والوں کے ساتھ رابطہ منقطع ہونے سے سخت ترین پریشانیاں جھیلنی پڑیں، وادی کے اندررہنے والے لوگ بھی پریشان اور باہرقیام پذیرلوگوں کا حال زیادہ ہی خراب ہوا۔5 اگست کو دفعہ 370 کی منسوخی سے قبل اور بعد بھی سفر محمود پر روانہ ہوئے حاجی صاحبان اور ان کے اعزہ و اقارب کی پریشانیاں قلمبند کرنا بھی محال ہے۔لوگ منجملہ بالخصوص طلبا اور بے روزگار ہوئے نوجوان ذہنی بیماریوں کے شکار ہوگئے اور یہاں جو ذہنی بیماریوں کا گراف پہلے ہی کافی بلند تھا، آسمان کو چھونے لگا۔

غلام محمد وانی نامی ایک شہری جس کا بیٹا بیرون ریاست زیر تعلیم ہے، نے یو این آئی اردو کے ساتھ اپنی روداد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ کے بعد جب میں نے اپنے بیٹے کو ملنے گیا تو وہ زار وقطار رونے لگا اور میری آنکھیں بھی اشک بار ہوئیں۔انہوں نے کہا: 'جب یہاں پانچ اگست کو سب کچھ ٹھپ ہوگیا تو میں نے پندرہ دن گزر جانے کے بعد اپنے بیٹے کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن تمام کوششیں نامراد ثابت ہوئیں پھر قریب ایک ماہ کے بعد میں اس کو ملنے کے لئے گیا تو مجھے دیکھ کر وہ زار وقطار رونے لگا اور پھر کہا کہ ہم آپ کے متعلق از حد فکر مند تھے'۔

علامتی تصویر علامتی تصویر

ایسی ہی کہانیاں، بلکہ اس سے بھر بدتر، یہاں ان تمام گھروں کی ہیں جن کے احباب و اقارب ملک کی مختلف ریاستوں میں ہیں۔وادی کے اندر بھی مواصلاتی نظام پر پابندی سے لوگوں کو ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کے ساتھ رابطہ منقطع ہوگیا خاص طور پر دوردراز علاقوں کے لوگوں کو اہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کی خیر وعافیت معلوم کرنے کے لئے پیدل سفر رنا پڑا یا اگر کوئی پیغام مریض کو اپنے گھر یا گھر والوں کے ہسپتال بھیجنا پڑتا ہے تو اس کے لئے زمانہ قدیم کی طرح ایک قاصد کو باضابطہ بھیجنا پڑتا ہے۔اگر کوئی شخص اچانک بیمار ہوجائے تو کسی طرح اس کو اہسپتال تو منتقل کیا جاتا ہے لیکن گھر سے نکلتے ہی مریض وتیمارداروں کے ساتھ رابطہ منقطع ہوجاتا ہے اور پھر جب تک نہ اہسپتال سے کوئی تیماردار گھر آئے یا گھر سے کوئی ہسپتال چلا جائے تب تک بیمار کے حال کے متعلق کچھ معلوم نہیں ہوتا ہے۔

مواصلاتی نظام پر عائد پابندی سے یہ بھی معلوم ہونا مشکل ہوجاتا ہے کہ بیمار کو کس ہسپتال میں داخل کیا گیا۔شبیر احمد نامی ایک شہری نے اپنی اہلیہ کی اچانک طبیعت بگڑ جانے کی روداد بیان کرتے ہوئے کہا: 'میری اہلیہ شام دیر گئے اچانک بیمار ہوگئی تو کسی طرح گاڑی کا بندوبست کرنے کے بعد ہم نے اس کو ہسپتال منتقل کیا لیکن گھر والوں کے ساتھ رابطہ نہیں رہا جس کے باعث ہمارے گھر والوں کو رات بھر وادی کے چار بڑے ہسپتالوں کی خاک چھاننی پڑی کیونکہ انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ہم کس ہسپتال میں ہیں'۔

بعض لوگوں کو دو دو دنوں کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مریض کس ہسپتال میں زیرعلاج ہیں اور ان کی حالت کیسی ہے۔اگر کہیں کسی کی موت واقع ہو جاتی تھی تو دوردراز علاقوں کے رشتہ داروں کو فون کرکے مطلع کیا جاتا تھا لیکن اب ایسی صورتحال میں انہیں مطلع کرنے کے لئے ایک قاصد کو بھیجنا پڑتا ہے تو کبھی کھبار ایسا بھی ہوتا ہے کہ میت کو دفن کرنے کے بعد قریبی رشتہ دار آتے ہیں۔وسطی ضلع بڈگام کے ایک دورافتادہ گاؤں کے محمد امین نامی ایک شہری نے کہا کہ ان کے ایک ماموں کی موت واقع ہوئی لیکن وہ ان کے دفن ہونے کے ایک دن بعد وہاں پہنچے۔انہوں نے کہا: 'میرے ماموں کی اچانک موت واقع ہوئی لیکن میں اپنے ماموں کا آخری دیدار نہیں کرسکا کیونکہ پیام رساں ایک دن بعد ہمارے ہاں پہنچا اور جب میں ماموں کے گھر پہنچا تو اس کو دفنایا گیا تھا، اگر مواصلاتی نظام ٹھپ نہ ہوتا تو میں موقع پر پہنچ کر کم از کم ان کا آخری دیدار کرکے ان کی تجہیز و تکفین میں شریک ہو پاتا'۔مواصلاتی ذرائع پر دو ماہ سے زائد پابندی کے دوران وادی میں آتشزنی کی بھی کئی وارداتیں رونما ہوئیں جس سے بے تحاشا مالی نقصان ہوا کیونکہ فائر سروس محکمے کو مطلع کرنے کے لئے آدمی کو کہیں پیدل تو کہیں گاڑی میں بھیجنا پڑا اوران کو خبر ہونے تک تعمیرات خاک ہوجاتے تھے۔

علامتی تصویر علامتی تصویر

سری نگر کے مضافات میں حال ہی میں دو دکانیں خاکستر ہوئیں تو فائر سروس کو بلانے کے لئے ایک آدمی کو موٹر سائیکل پر بھیج دیا گیا اور پھر جب تک وہ لوگ مشینری سمیت جائے واردات پر پہنچے تو آگ نے اپنا کام کیا تھا اور دکانیں مکمل خاکستر ہو چکی تھیں۔دوردراز علاقوں میں آ گ لگنے کی وجہ سے فلک بوس عمارتیں زمین بوس ہوگئیں کیونکہ متعلقہ محکمہ کے ساتھ وقت پر رابطہ نہیں ہوسکا۔عینی شاہدین نے بتایا کہ اگر فون چل رہے ہوتے تو فائر سروس والے وقت پر پہنچتے تو دکانوں کو اس قدر ہوئے نقصان سے بچایا جا سکتا تھا

وادی میں مواصلاتی پابندی سے صحافیوں کو بھی بدترین مشکلات سے دوچار ہونا پڑا، ایک تو ان کے ذرائع مفقود ہوگئے اور دوسرا اپنی رپورٹ فائل کرنے کے لئے انہیں اپنے دفتر پیدل آنا پڑرہا ہے اور اپنی رپورٹوں کو میل کرنے کے لئے سری نگر میں قائم میڈیا سینٹر کا روزانہ بنیادوں پر چکر کاٹنا پڑرہا ہے اوروہاں ناکافی انتظامات کے باعث مزید مشکلات سے دوچار ہونا پڑرہا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ مواصلاتی پابندی سے یہاں زمانہ قدیم کی کئی یادیں تازہ ہوئیں اور اب رشتہ داروں یا دوستوں کو کوئی پیغام بھیجنے کے لئے باقاعدہ پرانے زمانے کی طرح آدمی بھیجنا پڑتا ہے اور جو کام پانچ منٹ میں ہوتا تھا اب اسی کام کو انجام دینے کے لئے ایک دن لگ جاتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ انتطامیہ نے زائد از دو ماہ کے بعد پیر کے روز وادی میں پوسٹ پیڈ موبائل سروس بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم انٹرنیٹ پرعائد پابندی کب ہٹائی جائے گی یہ آنے والا وقت ہتائے گا۔

نیوزایجنسی یواین آئی کے ان پٹ کے ساتھ نیوز18 اردو کی رپورٹ

Loading...