پیغمبر اسلام کے خلاف نازیباکمنٹ کرنے پرمنیش گرفتار، دانش نے کی شکایت تواسے بھی ملاسبق

سوشل میڈیا پرمذہبی منافرت پھیلانے پراین ایس اے کے تحت ہوگی کارروائی: اترپردیش کے ڈی جی پی کا انتباہ

Oct 21, 2019 02:39 PM IST | Updated on: Oct 21, 2019 02:39 PM IST
پیغمبر اسلام کے خلاف نازیباکمنٹ کرنے پرمنیش گرفتار، دانش نے کی شکایت تواسے بھی ملاسبق

پیغمبر اسلام کے خلاف نازیباکمنٹ کرنے پرمنیش گرفتار، دانش نے کی شکایت تواسے بھی ملاسبق

اترپردیش کے الہٰ آباد میںسوشل میڈیا پرپیغمبراسلام کے خلاف نازیبا کمنٹ کئے جانے کے معاملہ میںجم آپریٹرمنیش سنگھ کے خلاف مقدمہ درج ہواہے۔ مقدمہشہرکے دھومن گنج تھانے میں درج کیا گیا۔ منیش سنگھ نے فیس بک پرپیغمبراسلام کے بارے میں نازیبا پوسٹ کی تھی۔الہ آباد کے محمد دانش نے منیش سنگھ کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ ایف آئی آرکے مطابقمنیش کے خلاف آئی ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہوا۔ہم آپ کو بتادیں کہ منیش سنگھ ایک پولیس افسر کا بیٹاہے۔

تاہم اس واقعہ کے بعد اترپردیش پولیس نے منیش سنگھ کے خلاف شکایت کرنے والے محمد دانش سمیت انکے 2 ساتھیوں محمدانس، شاہد انصاری کے خلاف بھی ایک مخصوص مذہب کے خلاف منافرت پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے مقدمہ درج کیاہے۔ پولیس ذرائع کا کہناہے کہ دانش کی جانب سے منیش سنگھ کی شکایت کیے جانے کے بعد پولیس نے دانش کے ماضی کا جائزہ لیا تاکہ اس کے خلاف بھی کوئی مقدمہ بنایاجاسکیں۔ پولیس نے دانش کی سوشل میڈیا پروفائل پرایک پوسٹ کا پتہ لگایاہے جس میں اس نے بھی ایک مخصوص مذہب کے خلاف متنازعہ ریمارکس کیے ہیں۔اس پوسٹ کا جائزہ لینے کے بعد پولیس نے نہ صرف دانش بلکہ اسکے 2 ساتھیوں کو بھی حراست میں لیے لیاہے۔

Loading...

 اترپردیش کے ڈائریکٹرجنرل آف پولیس او پی سنگھ نے ایک فرمان جاری کیا ہے۔(تصویر:نیوز18اردو)۔ اترپردیش کے ڈائریکٹرجنرل آف پولیس او پی سنگھ نے ایک فرمان جاری کیا ہے۔(تصویر:نیوز18اردو)۔

وہیں دوسری جانب اترپردیش کے ڈائریکٹرجنرل آف پولیس او پی سنگھ نے ایک فرمان جاری کیا گیاہے جس میں پولیس حکام کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ مذہبی منافرت پھیلانے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اس سرکلر میں کہا گیاہے کہ اب تک اترپردیش کے مختلف مقدمات پرمذہبی منافرت پھیلانے اور مذاہب کے خلاف متنازعہ ریمارکس کرنے 10 معاملات سامنے آئے ہیں۔ ڈی جی پی کی جانب سے سرکلر میں عوام کو انتباہ دیاگیاہے کہ اگرسوشل میڈیا کے ذریعہ مذہبی منافرت اور ایک مخصوص مذہب کے خلاف نفرت انگیزی کو عام کیاگیا تواترپردیش پولیس نیشنل سکیورٹی ایکٹ یعنی این ایس اے کے تحت مقدمات درج کریگی۔

Loading...