احمد آباد کےمسلم نوجوانوں نےسیاست دانوں کودکھایا آئینہ، اسلام اورمساجد کے آداب سےغیرمسلموں کو کرایا واقف

مسلمانوں کی جانب سے اسلام اورمسلمانوں سے متعلق غلط فہمیوں کو دورکرنےکے لئے ایک نمائش کا اہتمام کیا گیا، جس کی ہندو بھائیوں نے ستائش کی۔

Jan 29, 2019 12:04 AM IST | Updated on: Jan 29, 2019 12:10 AM IST
احمد آباد کےمسلم نوجوانوں نےسیاست دانوں کودکھایا آئینہ، اسلام اورمساجد کے آداب سےغیرمسلموں کو کرایا واقف

مسلم نوجوانوں نے اسلام اورمسجد سے متعلق غیر مسلموں کی غلط فہمیوں کا کیا ازالہ۔

مندر مسجد اوررام رحیم کے آس پاس میں گھومنے والی ہندوستان کی سیاست اوراسی طرح کی سیاست کرنے والے سیاستداں کو آئینہ دکھانے کا کام احمد آباد کے مسلم نوجوانوں نے کیا ہے۔ دراصل ان مسلم نوجوانوں نے ایک مسجد میں غیرمسلموں کو بلا کراسلام کی دعوت نہیں بلکہ مساجد میں کیا کچھ ہوتا ہے اس کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے نظرآئے۔

مسلمانوں کی جانب سے دی گئی دعوت کو احمدآباد کے غیرمسلموں نے قبول کرتے ہوئے مسجد میں پہنچے اوروضو کرنے سے لے کرنمازتک کیا کچھ ہوتا ہے اورنماز کیوں ادا کی جاتی ہے۔ اس کے بارے میں جانکاری حاصل کرتے ہوئے نظر آئے۔ احمد آباد کے رکھیال علاقے میں موجود  مسجد ''عمربن خطاب'' میں غیرمسلموں کے لئے خصوصی طورپر''آومسجد کی ملاقات لو'' کے عنوان پرایک پروگرام کا اہتمام کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں غیرمسلموں نے حصہ لیا۔

Loading...

دراصل ہندوستان میں سیاستداں جہاں رام مندراوربابری مسجد کو لےکراپنی سیاسی روٹی سینک رہے ہیں۔ وہیں دوسری طرف مسجد کولے کرکچھ لوگ غلط فہمی بھی پھیلا رہے ہیں۔ایسے میں مسجد عمر بن خطاب کے ذمہ داران نے ایک شاندارپہل کی شروعات کی، جس کے تحت غیرمسلموں کو مسجدوں میں ہونے والی تمام سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسجد میں پہنچنے کے بعد وضو کرنے کے طریقے سے لے کر پانچ وقت کی نماز، جمعہ کی نماز، عید کی نمازاورتہجد کی نمازکیوں پڑھی جاتی ہے۔ اس کے بارے میں جانکاری دی گئی۔

مسجد سے ملاقات کرکے واپسی کے دوران آپسی اتحاد بھی دیکھنے کو ملا۔ ہندو برادری کے لوگ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مسلم برادری کے لوگوں سے گلے ملے اوراس شاندارموقع دینے کے لئے شکریہ ادا کرتے ہوئے نظر آئے۔ اس موقع پرمسجد عمر بن خطاب  کے ٹرسٹی معین ابن نصراللہ، غیرمسلم ملاقاتی پروین پٹیل،   ویشال جیسوانی اورمسجد کے امام مولانا ضیا الرحمن نےاس طرح کے اقدامات اورعمل سے ہندو مسلم اتحاد کی بات کہی۔ ایک طرف مسلمانوں نے ان سے اسلام اورمساجد کے آداب سے واقف کرایا تو وہیں غیرمسلم بھائی مسلمانوں سے متاثرہوتے ہوئے نظرآئے۔

واضح رہے کہ ہندوستان میں کئی مذاہب کوماننے والے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ ایک دوسرے کے مذہب کو گہرائی سے نہیں جانتے۔ اسی وجہ سے کئی مرتبہ لوگوں میں غلط فہمی کی دیوار کھڑی ہو جاتی ہے۔ مسجد عمر بن خطاب کے ٹرسٹی معین ابن نصراللہ نے کہا کہ لوگوں میں ایک غلط فہمی یہ پنپ رہی ہے کہ مسجد کے اندد صرف مسلمان ہی آ سکتے ہیں جبکہ نبی کریم کے زمانے میں بھی غیرمذاہب کے لوگ بھی مسجدوں میں آیا کرتے تھےآج ملک کے ماحول میں جس طریقے سے نفرتوں کی فضا پھیلی ہوئی ہے، اسے دور کرنے کی کوشش ہم کر رہے ہیں۔

مسجد عمر بن خطاب میں ایگزیبیشن کے طورپراسلام مذہب کیا کہتا ہے، اسلام مذہب کی بنیاد کیا ہے، پانچ وقت کی نماز کیوں ادا کی جاتی ہے۔ اسی طریقہ کے پوسٹرکو بھی لگایا گیا تھا۔ ان پوسٹروں کو دیکھنے کے بعد غیر مسلموں نے خوشی کا اظہارکیا اورایک ساتھ آپسی بھائی چارہ کے ساتھ رہنے کے پیغام کو آم کیا۔ مسلم برادری کے جانب سے کی گئی اس پہل سے واضح ہوجاتا ہے کہ ہندوستان کے لوگ اب نفرت نہیں آپسی بھائی چارہ چاہتے ہیں۔ لیکن سوال ایک بارپھرسے وہی اٹھتا ہے کہ قومی اتحاد کو فروغ دینے کی کوششیں اکثرایک طرف سے ہی کیوں ہوتی ہے۔

 احمدآباد سےعارف عالم کی خاص رپورٹ

Loading...