آدرش سوسائٹی گھوٹالہ میں اشوک چوان کے خلاف مقدمہ چلانے کی گورنرکی اجازت

ممبئی۔ مہاراشٹر کے سابق وزیراعلی اشوک چوان کی مصیبتوں میں آج اس وقت اضافہ ہوا جب ریاست کے گورنر ودیا ساگرراؤنے ان کے خلاف کارگل شہداء کیلئے تعمیرکی گئی عالیشان عمارت آدرش سوسائٹی میں ہوئے مبینہ گھپلوں کے معاملے میں ان کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی ہے۔

Feb 04, 2016 08:48 PM IST | Updated on: Feb 04, 2016 08:49 PM IST
آدرش سوسائٹی گھوٹالہ میں اشوک چوان کے خلاف مقدمہ چلانے کی گورنرکی اجازت

ممبئی۔ مہاراشٹر کے سابق وزیراعلی اشوک چوان کی مصیبتوں میں آج اس وقت اضافہ ہوا جب ریاست کے گورنر ودیا ساگرراؤنے ان کے خلاف کارگل شہداء کیلئے تعمیرکی گئی عالیشان عمارت آدرش سوسائٹی میں ہوئے مبینہ گھپلوں کے معاملے میں ان کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی ہے۔ اب قانون کے مطابق مرکزی تفتیشی بیوروسی بی آئی عدالت میں فرد جرم داخل کرے گی اور سابق وزیراعلیٰ کے خلاف باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے گا جس میں ان کی گرفتاری بھی متوقع ہے۔

گورنرودیا ساگر راؤ نے کریمنل پروسیجرکوڈ کی دفعہ 97 اور تعزیرات ہند کی دفعہ 120 بی اور 420 کے تحت مقدمہ قائم کرنے کی اجازت دی ہے۔اس سلسلے میں 8اکتوبر 2015 کو سی بی آئی کے جوائنٹ دائٹریکٹر نے گورنر کو خط لکھ کر اشوک چوان کے خلاف مقدمہ قائم کی اجازت طلب کی تھی۔ سی بی آئی نے یہ اجازت اشوک چوان کے خلاف دستیاب تازہ ثبوت وشواہد کی بنیاد پر طلب کی تھی جس میں جسٹس پاٹل کی جانب سے تحقیقات کیے گئے کمیشن کی سفارشات اور عدالت میں داخل کردہ ایک عرضداشت کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ کی مختلف ہدایات شامل ہیں۔

اس سے قبل گورنرنے ریاستی کابینہ کوہدایت دی تھی کہ وہ تفتیشی ایجنسی کے اس مطالبے پر اپنے موقف کا اظہار کریں جس کے بعد ہی کل ہوئی کابینہ کی میٹنگ میں گورنر سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ اشوک چوان کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کی اجازت دیں۔ گورنر کی جانب سے ان کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کی اجازت دیے جانے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے اسے انتقامی کارروائی قرار دیا اور کہا کہ ماضی میں بھی گورنرنے اس پورے معاملے کا مطالعہ کیا تھا اور تفتیشی ایجنسی کی اس درخواست کو مسترد کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں قانونی صلاح ومشورہ کررہے ہیں اور جلد ہی اس تعلق سے وہ قانونی کارروائی کریں گے۔انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ وہ ریاستی کانگریس کے سربراہ کے عہدے سے مستعفی نہیں ہونگے اور اس سلسلہ میں قانون کی مدد سے انصاف حاصل کریں گے۔

Loading...

Loading...