گجرات فسادات : نروڈا پاٹیا فساد متاثرین کو نئے جج کی تقرری سے اب جلد فیصلہ آنے کی امید

قانون کی زبان میں کہا جاتا ہے کہ کسی کو دیر سے انصاف دینا بھی اس کے ساتھ نا انصافی کرنے کی طرح ہے۔ سال 2002 میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران نروڈا پاٹیا فسادات کے متاثرین آج 16 سالوں سے انصاف کی راہ دیکھ رہے ہیں۔

Jan 22, 2018 11:18 PM IST | Updated on: Jan 22, 2018 11:19 PM IST
گجرات فسادات : نروڈا پاٹیا فساد متاثرین کو نئے جج کی تقرری سے اب جلد فیصلہ آنے کی امید

احمد آباد : قانون کی زبان میں کہا جاتا ہے کہ کسی کو دیر سے انصاف دینا بھی اس کے ساتھ نا انصافی کرنے کی طرح ہے۔ سال 2002 میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران نروڈا پاٹیا فسادات کے متاثرین آج 16 سالوں سے انصاف کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ ان 16 سالوں کے دوران تین تین جج ریٹائرڈ ہوچکے ہیں اور چوتھےجج کی تقرری ابھی کچھ دن پہلے ہی ہوئی ہے۔ ایسے میں انصاف کی راہ دیکھنے والے نروڈا کے متاثرین اب جلد از جلد اس معاملہ کا فیصلہ آنے کی امید لگا رہے ہیں ۔

نروڈا گاؤں فرقہ وارانہ فسادات معاملہ کے متاثر اور گواہ شریف ملک کا کہنا ہے کہ انصاف حاصل کرنے کے لئے 16 سال سے انتظار کر رہے ہیں، ایسے میں جج کا ریٹائر ڈہونا اور نئے جج کی تقرری میں ایک لمبا وقت لگا ۔اس کے باوجود ہمیں انصاف کی امید ہےاور جس بھی نئے جج کی تقرری ہوئی ہے، ان سے ہمیں امید ہے کہ جلد سے جلد اس معاملہ کا فیصلہ سنائیں گے۔

غور طلب ہوکہ 2002 فرقہ وارانہ فسادات کے دوران نروڈا میں فسادیوں نےجم کر کہرام مچایا تھا، جس 11 لوگوں کی موت ہو گئی تھی ۔ اس معاملہ کے کل ملزم 87 ہیں، جن کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے، جس میں بابو بجرنگی اور مایا کوڈنانی خاص ہیں۔

Loading...

Loading...