روپانی کے لئے اب ایک اور درد سر، نائب وزیر اعلی کے بعد دبنگ وزیر نے ظاہر کی ناراضگی

گجرات میں نائب وزیر اعلی اور سینئر پاٹيدار لیڈر نتن پٹیل کی جانب سے محکمہ کی تقسیم کے سلسلے میں حال میں ہوئے ’ہائی وولٹیج‘ ڈرامے کے بعد اب کولی کمیونٹی کے ایک دبنگ وزیر نے بھی ایسی ہی شكايت کے ساتھ اپنی ہی پارٹی اور حکومت کے خلاف محاذ كھول دیا ہے۔

Jan 02, 2018 09:12 PM IST | Updated on: Jan 02, 2018 09:12 PM IST
روپانی کے لئے اب ایک اور درد سر، نائب وزیر اعلی کے بعد دبنگ وزیر نے ظاہر کی ناراضگی

گجرات کے وزیراعلی وجے روپانی: فائل فوٹو۔

گاندھی نگر۔ گجرات میں مسلسل چھٹی بار اسمبلی الیکشن جیتنے کے باوجود نسبتا کم سیٹوں کے ساتھ کسی حد تک کمزور انداز میں حکمراں بننے والی بی جے پی کی مشکلیں تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں اور نائب وزیر اعلی اور سینئر پاٹيدار لیڈر نتن پٹیل کی جانب سے محکمہ کی تقسیم کے سلسلے میں حال میں ہوئے ’ہائی وولٹیج‘ ڈرامے کے بعد اب کولی کمیونٹی کے ایک دبنگ وزیر نے بھی ایسی ہی شكايت کے ساتھ اپنی ہی پارٹی اور حکومت کے خلاف محاذ كھول دیا ہے۔ مسلسل 5 بار سے رکن اسمبلی منتخب ہونے والے پرشوتم سولنکی، جن کو ماہی پروری صنعت محکمہ کاوزیر مملکت بنایا گیا ہے، نے اس کے بارے سوال اٹھایا ہے۔ بھاونگر دیہی سیٹ سے جیتنے والے مسٹر سولنکی نے کہا کہ اس کو صرف ایک محکمہ دیئے جانے سے کولی کمیونٹی ناراض ہے۔

ادھر بی جے پی اعلی کمان نے فوراً ’ڈیمیج کنٹرول‘ (نقصان ٹالنے) کی مہم کے تحت ان سے ملنے کے لئے سینئر وزیر بھوپندرسنگھ چوڈاسما (جنہوں نے مسٹر پٹیل کے معاملے کو حل کرنے میں بھی کردار نبھایا تھا) کو بھیجا مگر مسٹر سولنکی نے ان موجودگي میں ہی یہ صاف کر دیا کہ وہ اپنے رخ پر قائم رہیں گے۔ مسٹر چوڈاسما نے مسٹر سولنکی کو اپنا ذاتی دوست اور کولی سماج کے درمیان بی جے پی کی بنیاد تیار کرنے والا رہنما قرار دیا اور کہا کہ وہ پارٹی سے ناراض نہیں ہیں اور وزیر اعلی اور پارٹی قیادت تین چار دن میں اس سلسلے میں فیصلہ کرے گی مگر مسٹر سولنکی نے فوری طور پر ہی کہا کہ وہ تو نہیں مگر ان کی کمیونٹی ناراض ہے۔ کمیونٹی اپنے اس اکلوتے وزیر کے ان کے لئے مزید محکمہ چاہتا ہے۔

گزشتہ چار بار سے انہیں دو دو محکمے دیئے گئے تھے مگر اس بار صرف ایک ہی محکمہ ملا ہے۔ آج وہ وزیر اعلی کے پاس گئے تھے مگر ان کے دفتر میں زیادہ ہجوم ہونے کے سبب وہ کھل کر اپنی بات نہیں رکھ پائے۔ ماہی پروری جیسے ایک محکمہ کے ذریعے وہ صرف ساحلی علاقے کے لوگوں کی خدمت کر سکتے ہیں۔ ایسے میں دوسرے لوگوں کی خدمت کے لئے ان کو مزید محکمے ملنے چاہئے۔ انہوں نے بھی اگرچہ مسٹر پٹیل کی طرز پر براہ راست اپنے ناراض ہونے کی بات نہیں کہی مگر یہ کہا کہ اگر ان کو مزید کوئی محکمہ نہیں ملتا تو ان کی کمیونٹی اپنی ناراضگی ظاہر کر سکتی ہے۔ مسٹر سولنکی نے انہیں اب تک کابینی وزیر کا درجہ نہ ملنے پر بھی سوال اٹھایا۔ اس دوران سیاسی گلیاروں میں لوگ اس بات کو لے کر چٹکی لے رہے ہیں۔

Loading...

Loading...